صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 295
صحيح البخاري - جلد ۴ ۲۹۵ ۴۰ - كتاب الوكالة باب ۸ إِذَا وَكَلَ رَجُلٌ رَجُلًا أَنْ يُعْطِيَ شَيْئًا وَلَمْ يُبَيِّنْ كَمْ يُعْطِي فَأَعْطَى عَلَى مَا يَتَعَارَفُهُ النَّاسُ اگر کوئی شخص کسی کو کچھ دینے کے لئے وکیل کرے اور یہ کھول کر نہ بتائے کہ کتنا دے اور اس نے دستور عامہ کے مطابق دے دیا ہو ( تو یہ جائز ہے۔) ۲۳۰۹ : حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ۲۳۰۹: مکی بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي ابن جریج نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عطاء بن ابی رباح رَبَاحٍ وَغَيْرِهِ يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ اور ان کے سوا اور لوگوں سے بھی روایت کی ہے جو ایک وَلَمْ يُبَلِّغْهُ كُلَّهُ رَجُلٌ وَاحِدٌ مِنْهُمْ عَنْ دوسرے سے کچھ زیادہ بیان کرتے تھے اور ان سب عروسة جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ میں سے ایک شخص نے بھی اس ( حدیث کو مکمل بیان نہیں کیا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہے۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں فِي سَفَرٍ فَكُنْتُ عَلَى جَمَلٍ ثَقَالِ ایک سفر میں تھا۔ میں ایک سست رفتار اونٹ پر سوار تھا۔ إِنَّمَا هُوَ فِي آخِرِ الْقَوْمِ فَمَرَّ بِي صرف وہی اونٹ ا ونٹ لوگوں کے پیچھے رہتا تھا۔ نبی ہے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ میرے پاس سے گزرے اور آپ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ مَنْ هَذَا قُلْتُ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ میں نے کہا: جابر بن عبداللہ (انصاری) آپ نے فرمایا: قَالَ مَا لَكَ قُلْتُ إِنِّي عَلَى جَمَلٍ تمہیں کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا: میں ایک سست رفتار ثَفَالٍ قَالَ أَمَعَكَ قَضِيْبٌ قُلْتُ نَعَمْ اونٹ پر سوار ہوں۔ آپ نے پوچھا: تمہارے پاس قَالَ أَعْطِنِيْهِ فَأَعْطَيْتُهُ فَضَرَبَهُ چھڑی ہے۔ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: مجھے وہ دو۔ میں نے آپ کو دی۔ آپ نے اس اونٹ کو مارا فَزَجَرَهُ فَكَانَ مِنْ ذَلِكَ الْمَكَانِ مِنْ اور اُسے ڈانٹا تو وہ اس جگہ ایسا چلا کہ سب لوگوں کے أَوَّلِ الْقَوْمِ قَالَ بِعْنِيْهِ فَقُلْتُ بَلْ آگے نکل گیا۔ آپ نے فرمایا: مجھے یہ قیمت ادے دو۔ میں هُوَ لَكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ قَالَ بَلْ بِعْنِيْهِ نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ آپ کا ہی ہے۔ آپ نے فرمایا: