صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 294
صحيح البخاری جلدم ۲۹۴ ٤٠ - كتاب الوكالة النَّاسُ قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ اپنی خوشی سے یہ (قیدی ) یونہی دے دیئے۔رسول اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمیں پتہ نہیں کہ تم میں سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا لَا نَدْرِي مَنْ کس نے اس کی اجازت دی اور کس نے نہیں دی۔تم أَذِنَ مِنْكُمْ فِي ذَلِكَ مِمَّنْ لَّمْ يَأْذَنْ لوٹ جاؤ اور تمہارے سر براہ تمہارا فیصلہ ہمارے فَارْجِعُوْا حَتَّى يَرْفَعُوْا إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ سامنے پیش کریں۔اس پر لوگ چلے گئے اور ان کے أَمْرَكُمْ فَرَجَعَ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ سربراہوں نے ان سے گفتگو کی۔پھر وہ رسول اللہ عُرَفَاؤُهُمْ ثُمَّ رَجَعُوْا إِلَى رَسُوْلِ اللهِ صلى الله علیہ وسلم کے پاس لوٹ کر آئے اور انہوں نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوْهُ أَنَّهُمْ آپ کو بتایا کہ سب لوگوں نے خوشی سے مانا ہے اور اجازت دی ہے (کہ قیدی واپس کر دیئے جائیں۔) قَدْ طَيَّبُوْا وَأَذِنُوْا۔اطرافهما : ٢٥٣٩ - ٢٥٤٠ ، ٢٥٨٣ - ٢٥٨٤ ، ۲٦٠٧ - ۲۶۰۸، ۳۱۳۱ - ۳۱۳۲، ۱۳۱۸-٤۳۱۹، تشریح: ٧١٧٦-٧١٧٧۔إِذَا وَهَبَ شَيْئًا لِوَكِيلٍ أَوْ شَفِيعٍ قَوُم: اس تعلق میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ وکیل کو سمجھوتہ کرانے پر کوئی معاوضہ دیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ مذکورہ بالا روایت سے اس بارے میں جواز یا عدم جواز کا مسئلہ مستنبط نہیں ہوسکتا۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کا ہبہ در اصل ساری ہوازن قوم کے لئے تھانہ کہ نمائندوں کی ذات خاص کے لئے ان کے نمائندہ ہونے کی وجہ سے۔اگر جنگی قیدیوں میں ان نمائندوں کا کوئی قیدی بھی تھا تو اُس کی آزادی ان کی وکالت کی وجہ سے نہ تھی۔یہی نقطہ نظر عنوان باب کی ترکیب میں منظر ہے۔کہتے ہیں : الأمُورُ تَنْزِلُ عَلَى الْمَقَاصِدِ لَا عَلَى الصُّوَرِ یعنی معاملات کے طے کرنے میں مقصد دیکھا جاتا ہے۔الفاظ کی ظاہری صورت و شکل نہیں۔مثلاً اگر شفیع سے کہا جائے کہ میں نے تمہاری سفارش قبول کر کے فلاں شئے تمہاری خاطر ہبہ کردی ہے تو یہ ہبہ دراصل اس شخص کے حق میں ہوگا جس کی سفارش کی گئی ہے، نہ شفیع کی ذات کے لئے۔مسئلہ معنونہ کے بارے میں فقہاء کے درمیان کسی قدر اختلاف ہے۔امام ابوحنیفہ کے نزدیک وکیل کا اقرار یا سمجھوتہ مؤکل پر لازم ہوتا ہے۔بشرطیکہ قاضی اسے صحیح قرار دے۔امام ابو یوسف کا مذہب اس بارے میں یہ ہے کہ مؤکل کو وکیل کا طے کردہ معاملہ قبول کرنا ہوگا اور وہ شرط جو امام ابو حنیفہ نے لگائی ہے وہ ضروری نہیں۔امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک مندرجہ بالا حدیث سے ایسا استنباط کرنا درست نہیں۔کیونکہ قبیلہ ہوازن کے عریف یعنی نمائندے بطور وکیل نہیں بھیجے گئے تھے ؛ بلکہ اُن میں سے وہ بڑے لوگ تھے اور اپنی قوم کے لئے صرف ایلچی کی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔(فتح الباری جز پہ صفحہ ۶۱۰) مزید وضاحت کے لیے کتاب فرض الخمس - باب ۱۵، کتاب المغازی - باب ۵۴ کی تشریح بھی دیکھئے۔