صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 293
صحيح البخاري - جلد ۴ ۲۹۳ ۴۰ - كتاب الوكالة صلى الله قَامَ حِيْنَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِيْنَ رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ اُٹھے۔ فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ انہوں نے آپ سے درخواست کی تھی کہ ان کے مال اور وَسَبْيَهُمْ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ ان کے قیدی ان کو واپس کر دیئے جائیں تو رسول اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ الْحَدِيْثِ ﷺ نے ان سے کہا: سچی بات مجھے بہت ہی پسندیدہ إِلَيَّ أَصْدَقُهُ فَاخْتَارُوْا إِحْدَى ہے۔ دو باتوں میں سے تم ایک بات اختیار کر لو۔ قیدی الطَّائِفَتَيْنِ إِمَّا السَّبْيَ وَإِمَّا الْمَالَ واپس لو) یا مال اور میں نے تو (جعرانہ میں) ان کا فَقَدْ كُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ بِهِمْ وَقَدْ كَانَ انتظار کیا تھا اور فی الواقعہ رسول اللہ ﷺ جب طائف رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے لوٹے تو دس سے کچھ زائد راتیں ان کا انتظار انْتَظَرَهُمْ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِيْنَ قَفَلَ کرتے رہے۔ جب انہیں اچھی طرح معلوم ہو گیا کہ مِنَ الطَّائِفِ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ رسول الله ﷺ انہیں واپس دینے کے نہیں مگر دو میں رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے ایک ہی شئے۔ انہوں نے کہا: پھر ہم اپنے قیدی غَيْرُ رَادٍ إِلَيْهِمْ إِلَّا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ لیں گے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں میں قَالُوا نَخْتَارُ سَبْيَنَا فَقَامَ رَسُوْلُ اللهِ کھڑے ہوئے اور اللہ کی تعریف کی جو اس کے شایان صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُسْلِمِينَ ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: تمہارے یہ بھائی ہمارے فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا پاس تو بہ کر کے آئے ہیں اور میں نے مناسب سمجھا ہے بَعْدُ فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ هَؤُلَاءِ قَدْ جَاءُونَا کہ ان کے قیدی انہیں واپس کر دوں ۔ پس جو شخص تم تَائِبِينَ وَإِنِّي رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ میں سے خوشی سے واپس کرنا چاہے تو وہ واپس کر دے سَبْيَهُمْ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ اور جو تم میں سے یہ چاہے کہ وہ اپنے حصے پر ہی قائم بِذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ رہے تو وہ بھی واپس کر دے۔ ہم اس کو اس کا حصہ يَكُوْنَ عَلَى حَظِهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ غنیمت سے جو اللہ ہمیں دے گا ، دے دیں گے۔ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ فَقَالَ لوگوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر ہم نے