صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 282
صحيح البخاری جلد۴ PAY دالله الحالي ٤٠ - كِتَابُ الْوَكَانَة ٤٠ - كتاب الوكالة و كائۃ کے لغوی معنے ہیں کسی کو کوئی کام سپرد کرنا۔(لسان العرب- و کل) ہر تصرف جو انسان بحیثیت مالک کسی امر میں بذات خود کرسکتا ہو، وہ دوسرے کو سپرد کیا جاسکتا ہے۔جس کے سپرد کیا جائے، وہ وکیل کہلائے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان کا نکاح قبول کرنے میں اپنی طرف سے حضرت عمرو بن امیہ ضمری کو وکیل مقرر کیا۔(اسد الغابة - ذكر عمرو بن أمية بن خويلد الضمرى شرعی اصطلاح میں کسی شخص کا دوسرے کو کسی جائز امر کے سرانجام دینے میں اپنا قائم مقام مقرر کرنا وکالت کہلاتا ہے۔لیکن ناجائز بات میں کسی کی وکالت کرنا درست نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى * وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ من وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ O (المائدۃ:۳) یعنی تم نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں تو ایک دوسرے کی مدد کرو۔لیکن گناہ اور زیادتی کی باتوں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کیا کرو اور اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو۔اللہ کی سزا یقیناً سخت ہوتی ہے۔پس اس آیت سے استنباط ہوتا ہے کہ وکالت کسی اچھے کام میں ہی کرنی چاہیے۔وکالت کی حسب ذیل شرطیں ہیں:- -1 ط ص مؤکل کی اہلیت و قدرت یعنی کمسن ، کم عقل ، شرابی اور مجنون کا کسی کو وکیل کرنا درست نہ ہوگا۔۲۔صحت وکالت کے لئے ضروری ہے کہ جن باتوں میں کسی کو وکیل کیا جائے، وہ جائز ہوں۔مثلاً بحالت احرام چونکہ نکاح جائز نہیں، اس لئے اس ناجائز بات میں کسی کو وکیل کرنا بھی درست نہیں۔تعیین یعنی غیر معین وکالت جائز نہیں۔مثلاً اگر کوئی شخص کہے کہ اس کی طرف سے فلاں شخص فروخت کرنے میں وکیل ہے اور کوئی چیز معین نہ کرے تو یہ جائز نہ ہوگا۔۴- مؤکل کی رضا مندی۔-۵ وکالت امانت کی طرح ہے۔اس لئے اس کی صحت کے لئے وہی شرائط ہیں جو امانت کے لئے ہیں۔خیانت وکالت کو باطل اور کالعدم کر دیتی ہے۔