صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 281
صحيح البخاری جلد ۴ ۲۸۱ ٣٩- كتاب الكفالة سے آپ قرض ادا کریں گے اور جو مال اس نے چھوڑا ہے، اس کے حق دار اس کے وارث ہوں گے۔ یہ روایت بلحاظ سند کمزور ہے۔ ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحه ۲۰۲) (عمدۃ القاری شرح کتاب الحوالة ، باب ۳- جزء ۱۲ صفحه ۱۱۳) قرآن مجید میں تقسیم ورثہ کے تعلق میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُّوْصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ * غَيْرَ مُضَارٌ وَصِيَّةً مِّنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ (النساء : ۱۳) یعنی ترکہ کی تقسیم وصیت اور مرنے والے کے قرض کی ادائیگی کے بعد بچے ہوئے مال سے ہوگی ۔ اس تقسیم میں کسی کو ضرر پہنچانا مقصود نہیں ہونا چاہیے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تاکیدی حکم ہے اور اللہ خوب جاننے والا اور بردبار ہے۔ اس آیت سے واضح ہے کہ وصیت اور قرضہ کی ادائیگی بہر حال لازم ہے۔ قرآن مجید کے اس صریح حکم کی روشنی میں مندرجہ بالا حدیث پر عمل کرنا ہوگا۔ یعنی ترکے سے قرض کی ادائیگی مقدم ہے اور اگر کوئی شخص قلاش فوت ہوا ہو تو اس کے قرض کی ادائیگی کا کفیل بیت المال ہوگا اور یہ ذمہ داری ایسے ہی مقروض متوفی کے لئے ہے جو تہی دست ہو، نہ ہر ایک مقروض کے لئے۔ شارحین نے عنوانِ باب کے تعلق میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ وہ اپنے مفہوم کے لحاظ سے مبہم ہے۔ صحیح بخاری کے بعض نسخوں میں باب بلا عنوان ہے اور ان کا خیال ہے کہ یہ باب بطور فصل ہے۔ سابقہ ابواب کا مضمون یہاں ختم ہوتا ہے۔ اس لئے صرف روایت نمبر ۲۲۹۸ درج کی گئی ہے۔ جس کا سابقہ باب کے مضمون سے کوئی تعلق نہیں۔ بلکہ اس کا تعلق باب ۳ کے مضمون سے ہے۔ جن نسخوں میں باب کا عنوان موجود ہے۔ وہ صرف لفظ قرضہ ہے۔ رضہ ہے۔ اس سے کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ اس سے متعلق کیا مسئلہ بیان کرنا مقصود ہے۔ دیکھئے فتح الباری جزء ۲ صفحه ۲۰۱ ، عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحه ۱۲۵۔ فقہاء نے اس ضمن میں یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ مقروض کی نماز جنازہ نہ پڑھنا بطور تحریم ہے یا تعزیر؟ تا لوگوں کو حقوق العباد کی ادائیگی کی فکر رہے اور اسے معمولی نہ سمجھیں۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحہ ۱۲۶) لیکن اگر مقروض کی نماز جنازہ پڑھنا حرام ہوتا تو صحابہ سے نہ کہا جاتا کہ وہ پڑھیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ یہ صورت تحریمی نہیں بلکہ تعزیری تھی۔ 0000000000