صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 280
صحيح البخاري - جلدم ۲۸۰ بَاب : الدِّيْنُ قرضہ کے بارے میں ارشاد ٣٩- كتاب الكفالة ۲۲۹۸: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ :۲۲۹۸: یحی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیٹ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ نے ہمیں بتایا۔انہوں عقیل سے عقیل نے ابن شہاب ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ سے ابن شہاب نے ابو سلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ علیہ وسلم کے پاس جب کسی ایسے شخص کا جنازہ آتا جس كَانَ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ الْمُتَوَفَّى عَلَيْهِ پر قرضہ ہوتا، آپ پوچھتے : آیا اس نے اپنا قرضہ چکانے الدَّيْنُ فَيَسْأَلُ هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ فَضْلًا کے لئے کچھ مال چھوڑا ہے؟ اگر لوگ کہتے : ہاں تو فَإِنْ حُدِثَ أَنَّهُ تَرَكَ لِدَيْنِهِ وَ فَاءً صَلَّی آپ اس پر نماز جنازہ پڑھتے ، ورنہ مسلمانوں سے وَإِلَّا قَالَ لِلْمُسْلِمِيْنَ صَلُّوْا عَلَى کہتے تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھو۔جب اللہ نے صَاحِبِكُمْ فَلَمَّا فَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ الْفُتُوْحَ آپ کو فتوحات دیں تو آپ نے فرمایا: میں مسلمانوں قَالَ أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ کا ان (کے رشتہ داروں ) سے بھی زیادہ قریبی ہوں۔فَمَنْ تُوُفِّيَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ فَتَرَكَ دَيْنَا اس لئے مومنوں میں سے جو فوت ہو اور وہ قرضہ فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ۔چھوڑ جائے تو اس کا ادا کرنا میرے ذمے ہے اور جو کوئی مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے۔تشریح: اطرافه ،۲۳۹۸، ۲۳۹۹، ٤۷۸۱، 5371، 6731، 6745، ٦٧٦٣۔فَعَلَيَّ قَضَاءُ هُ : امام ابوحنیفہ اور امام مالک نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری عمل کو سابقہ عمل کا ناسخ قرار دے کر کفالت کے بارے میں یہ رائے قائم کی ہے کہ اگر متوفی مقروض ہو اور اس کا کوئی ترکہ نہ ہو تو بیت المال اس کا کفیل ہو گا۔اس تعلق میں ایک اور روایت بھی منقول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مقروض کی نماز جنازہ نہ پڑھی تو جبریل نے کہا: حقوق العباد کا نادہند ظالم ہے کہ اس نے اسراف اور حدودِ شریعت توڑنے میں قرض برداشت کئے۔لیکن ایک عفت مآب عیال دار جو مجبوراً قرضہ لیتا ہے اور اس کو ادا نہیں کر سکتا اور وفات پا جاتا ہے، اس کا میں ضامن ہوں۔اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ ایسے شخص کی طرف