صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 277
صحيح البخاري - جلدم ۲۷۷ ٣٩- كتاب الكفالة حوادث میں حق بات کی مدد کرتا ہے۔اس پر قریش نے مِثْلُهُ وَلَا يُخْرَجُ أَتُخْرِجُوْنَ رَجُلًا جانا چاہیے۔کیا تم ایسے شخص کو نکالتے ہو جو غریب کی يَكْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَيَصِلُ الرَّحِمَ پرورش کرتا ہے اور رشتہ داروں سے نیک سلوک کرتا وَيَحْمِلُ الْكَلَّ وَيَقْرِي الضَّيْفَ وَيُعِيْنُ ہے اور بے سہاروں کے بوجھ کو اپنے کندھوں پر لیتا عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ فَأَنْفَذَتْ قُرَيْشٍ ہے اور مہمانوں کی بہترین خاطر مدارات کرتا ہے اور جِوَارَ ابْنِ الدَّغِنَةِ وَآمَنُوْا أَبَا بَكْرٍ این دغنہ کی پناہ منظور کر لی اور حضرت ابوبکر کو آمن دیا وَقَالُوْا لِابْنِ الدَّغِنَةِ مُرْ أَبَا بَكْرٍ مَگر ابن دغنہ سے کہا: ابوبکر سے کہو کہ وہ اپنے رب کی فَلْيَعْبُدُ رَبَّهُ فِي دَارِهِ فَلْيُصَلِ وَلْيَقْرَأْ عبادت اپنے گھر میں ہی کیا کرے۔(وہیں ) نماز مَا شَاءَ وَلَا يُؤْذِيْنَا بِذَلِكَ وَلَا يَسْتَعْلِنُ پڑھے اور جو چاہے پڑھے۔لیکن ہمیں (اپنی عبادت بِهِ فَإِنَّا قَدْ خَشِيْنَا أَنْ يُفْتِنَ أَبْنَاءَنَا اور قرآن پڑھنے) سے تکلیف نہ دے اور اعلانیہ نہ وَنِسَاءَنَا قَالَ ذَلِكَ ابْنُ الدَّغِنَةِ پڑھے۔کیونکہ ہمیں ڈر ہے کہ وہ ہمارے بیٹوں اور ہماری عورتوں کو گمراہ کر دے گا۔ابن دغنہ نے حضرت لِأَبِي بَكْرٍ فَطَفِقَ أَبُو بَكْرٍ يَعْبُدُ رَبَّهُ ابوبکر سے یہ کہہ دیا تو حضرت ابو بکڑ اپنے گھر میں ہی دَارِهِ وَلَا يَسْتَعْلِنُ بِالصَّلَاةِ اپنے رب کی عبادت کرنے لگے اور اپنے گھر کے سوا وَلَا الْقِرَاءَةِ فِي غَيْرِ دَارِهِ ثُمَّ بَدَا کسی اور جگہ نماز اور قرآن اعلانیہ نہ پڑھتے۔پھر کچھ لِأَبِي بَكْرٍ فَابْتَنَى مَسْجِدًا بِفِنَاءِ دَارِهِ عرصہ کے بعد حضرت ابوبکر کو خیال آیا تو انہوں نے وَبَرَزَ فَكَانَ يُصَلَّيْ فِيْهِ وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ اپنے گھر کے صحن میں ایک مسجد بنالی اور کھلی جگہ میں فَيَتَقَصَّفُ عَلَيْهِ نِسَاءُ الْمُشْرِكِيْنَ لکھے۔وہیں نماز بھی پڑھتے اور قرآن مجید بھی اور اُن وَأَبْنَاؤُهُمْ يَعْجَبُونَ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ کے پاس مشرکوں کی عورتیں اور بچے جمگھٹا کرتے۔وہ تعجب کرتے اور حضرت ابو بکر کو دیکھتے اور حضرت ابوبکر وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَجُلًا بَكَاءً لَا يَمْلِكُ بہت ہی رونے والے آدمی تھے۔جب قرآن پڑھتے دَمْعَهُ حِيْنَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَأَفْزَعَ ذَلِكَ تو اپنے آنسوؤں کو نہ تھام سکتے۔اس کیفیت نے قریش أَشْرَافَ قُرَيْشٍ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ کے مشرک سرداروں کو گھبرا دیا اور انہوں نے ابن دغنہ فَأَرْسَلُوْا إِلَى ابْنِ الدَّغِنَةِ فَقَدِمَ کو بلا بھیجا۔وہ ان کے پاس آیا اور انہوں نے اسے کہا: