صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 276
صحيح البخاري - جلدم ٣٩- كتاب الكفالة وَهُمَا يَدِينَانِ الدِّيْنَ۔وَقَالَ أَبُو صَالِحٍ اور ابو صالح (سلیمان ) نے کہا: مجھے عبداللہ بن مبارک) حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ عَنْ يُونُسَ عَنِ نے بتایا۔انہوں نے یونس سے ، یونس نے زہری سے الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ روایت کی۔انہوں نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا اللهُ عَنْهَا قَالَتْ کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں : جب سے میں لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَيْ قَطُّ إِلَّا وَهُمَا يَدِيْنَانِ نے ہوش سنبھالا ہے میرے ماں باپ اسی دین پر تھے الدِّيْنَ وَلَمْ يَمُرَّ عَلَيْنَا يَوْمٌ إِلَّا يَأْتِيْنَا اور ہم پر کوئی ایسا دن نہیں گزرا کہ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس صبح و شام دونوں وقت نہ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ فِيْهِ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آئے ہوں۔جب مسلمانوں کو تکلیف دی گئی تو حضرت طَرَفَي النَّهَارِ بُكْرَةً وَعَشِيَّةً فَلَمَّا ابوبکر ہجرت کر کے حبشہ کی طرف چل پڑے۔جب وہ ابْتُلِيَ الْمُسْلِمُونَ خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ يَرْكُ الْعِمَادِ مقام پر پہنچے تو انہیں (مالک) بن دغنہ مُهَاجِرًا قِبَلَ الْحَبَشَةِ حَتَّى إِذَا بَلَغَ ملا اور وہ قارہ قبیلہ کا سردار تھا۔اس نے پوچھا: ابوبکر بَرْكَ الْعِمَادِ لَقِيَهُ ابْنُ الدَّغِنَةِ وَهُوَ کہاں کا قصد ہے؟ حضرت ابوبکر نے کہا: میری قوم سَيِّدُ الْقَارَةِ فَقَالَ أَيْنَ تُرِيْدُ يَا أَبَا بَكْرٍ نے مجھے نکال دیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ ملک میں فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَخْرَجَنِي قَوْمِي فَأَنَا چلوں پھروں اور اپنے رب کی عبادت کرتا رہوں۔أُرِيْدُ أَنْ أَسِيْحَ فِي الْأَرْضِ وَأَعْبُدَ رَبِّي ابن دغنہ نے کہا: تمہارے جیسا آدمی خود وطن نہیں قَالَ ابْنُ الدَّغِنَةِ إِنَّ مِثْلَكَ لَا يَخْرُجُ چھوڑتا اور نہ اسے نکالا جانا چاہیے۔تم تو کنگال کو کما کر وَلَا يُخْرَجُ فَإِنَّكَ تَكْسِبُ الْمَعْدُومَ دیتے رہے ہو ، رشتہ داروں سے نیک سلوک کیا کرتے وَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَقْرِي ہو اور بے چاروں کو سنبھالتے ہو اور مہمان نواز اور حادثوں میں حق بات کی مدد کرتے ہو اور میں تمہیں اپنی پناہ میں لیتا ہوں۔واپس چلو اور اپنے وطن میں الضَّيْفَ وَتُعِيْنُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ وَأَنَا لَكَ جَارٌ فَارْجِعْ فَاعْبُدْ رَبَّكَ ہی اپنے رب کی عبادت کرو اور ابن دغنہ بھی چل پڑا بِبِلَادِكَ فَارْتَحَلَ ابْنُ الدَّغِنَةِ فَرَجَعَ اور حضرت ابو بکر کے ساتھ ( مکہ میں ) آیا اور کفار قریش مَعَ أَبِي بَكْرٍ فَطَافَ فِي أَشْرَافِ كُفَّارِ کے سرداروں سے ملا اور اُن سے کہا: ابوبکر تو ایسے ہیں قُرَيْشٍ فَقَالَ لَهُمْ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ لَا يَخْرُجُ کہ ان جیسا آدمی وطن سے نہیں نکلنا چاہیے اور نہ نکالا