صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 3 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 3

صحيح البخاری جلد ۴ ۳۴- كتاب البيوع سرانجام دے۔مگر یہ غرض سودی کاروبار میں بالآخر مفقود ہو جاتی ہے۔یعنی اشیاء کے مبادلہ میں سہولت پیدا کرنے کی جگہ سود خور خود زر مبادلہ کو ہی ذریعہ کسب معاش بنالیتا ہے۔بحالیکہ کسب معاش در حقیقت عمل صالحہ کا نتیجہ ہونا چاہیے جس میں ذہنی اور جسمانی قوتیں بروئے کار لائی جائیں۔زرعی اور صنعتی اشیاء پیداوار وغیرہ میں عمل ومحنت اصل بنیادی رکن ہیں؛ جو زمینداروں اور کاریگروں وغیرہ کو اُن کی محنت کے نتیجہ کے مستحق بناتے ہیں اور روپیہ پیسہ اشیائے پیداوار کو بآسانی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے میں مدد دیتا ہے اور اسی طرح تجارتی کاروبار میں یہ بطور آلہ انتقال ہے اور اسی غرض کے لئے وہ اشیاء کی قیمتوں کے اندازہ کرنے میں معیار بنایا گیا ہے۔اب جو چیز بوجہ معیار قیمت ہونے کے ذریعہ مبادلہ اشیاء ہے، وہی ذریعہ کسب معاش بنالی جاتی ہے۔جس کا اثر تدریجا طبعی طور پر اشیاء کے نرخوں پر پڑتا ہے۔کیونکہ زمیندار یا کاریگر جو اپنا کام کرنے کے لئے سود خوار سے بوجہ تہی دستی روپیہ لینے کے لئے مجبور ہوگا، وہ سود ادا کرنے کے لئے مجبور ہوگا کہ اپنی اشیائے پیداوار کا نرخ بقدر سود بڑھائے اور جب نرخ بڑھے گا تو اشیاء کی خرید و فروخت محدود ہو جائے گی۔بلکہ تجارتی کاروبار میں بائع اور مشتری کے درمیانی وسائط انتقال جتنے زیادہ ہوں گے اشیاء کے نرخ اُتنے ہی زیادہ ہوتے جائیں گے۔جس کا بار آخر کار مشتری اور صارف پر پڑے گا۔اس کے برعکس جب نرخ کم ہوں گے فروخت زیادہ ہوگی اور تجارتی کاروبار زیادہ گردش کرنے کے قابل ہو جائے گا۔سرمایہ دار جو سودی کاروبار کرتا ہے ؛ سود کے ذریعہ تین طرح نقصان کا باعث بنتا ہے۔اوّل: وہ بغیر عمل و محنت زرمبادلہ کو ذریعہ کسب معاش بناتا ہے۔دوم: اپنی قوتوں کو بروئے کار نہیں لاتا اور ایک یک مستحق شخص کے اصل معاوضہ محنت میں کمی پیدا کرتا ہے۔کیونکہ جو سود اُس کو ادا ہوتا ہے وہ بجز اس کے نہیں ادا کیا جا سکتا کہ محنت کرنے والا اپنی پیداوار میں سے اس کو ادا کرے۔یا نرخ بڑھا کر اس کا بار دوسروں پر ڈالے۔سوم: جیسا کہ بتایا جا چکا ہے؛ نرخوں کے بڑھنے سے تجارتی کاروبار کی گردش نسبتا کم ہو جاتی ہے اور اس طرح زرمبادلہ کی اصل غرض جو مبادلہ اشیاء میں سہولت پیدا کرنا ہے، بالآ خر مفقود ہو جاتی ہے۔علاوہ ازیں ایک سود خوار سرمایہ دار بغیر عمل و محنت دوسروں کے بل بوتے پر اپنی مالی قوت اور اثر ورسوخ کو بھی بڑھاتا چلا جاتا ہے۔جس سے سرمایہ داری کا ظالمانہ چنگل مضبوط سے مضبوط ہوتا جاتا ہے؛ جیسا کہ روزمرہ کے مشاہدہ میں آ رہا ہے۔اس مختصر تمہید کے بعد ذیل میں باب وار شرح کتاب البیوع پیش کی جاتی ہے۔