صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 4 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 4

صحيح البخاری جلد ۴ سلام ۳۴- كتاب البيوع باب ۱ : مَا جَاءَ فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلوةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللهِ وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ۔ اللہ عز وجل کا ارشاد ہے: اور جب نماز ختم ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ تعالیٰ کے فضل کی جستجو میں رہو اور اللہ تعالیٰ کو بہت ہی یاد کرو تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوَا انْفَضُّوا اور جب یہ (لوگ) تجارت یا کھیل کی بات دیکھتے ہیں إِلَيْهَا وَتَرَكُوْكَ فَابِما قُلْ مَا عِنْدَ اللهِ تو تجھ سے الگ ہو کر ) اُس کی طرف لپکتے ہیں اور تجھ خَيْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَ مِنَ التِّجَارَةِ وَاللهُ کو اکیلا چھوڑ دیتے ہیں۔ تو اُن سے کہہ دے: جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ کھیل تماشے سے اچھا ہے اور تجارت سے بھی اچھا ہے اور اللہ تعالیٰ بہتر رزق دینے والا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ بھی ارشاد ہے: تم نا جائز خَيْرُ الرَّزِقِينَ (الجمعة: ١١-١٢) وَقَوْلُهُ: لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ طور سے اپنے مال آپس میں نہ کھایا کرو۔ ہاں یہ جائز تَرَاضٍ مِنْكُمْ (النساء: ٣٠) ہے کہ تجارت آپس کی رضا مندی کے ساتھ ہو۔ ٢٠٤٧ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ: ۲۰۴۷: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: کہا کہ شعیب نے ہمیں بتایا کہ زہری سے مروی ہے کہ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو انہوں نے کہا: سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمن سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ نے مجھے خبر دی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّكُمْ تَقُوْلُوْنَ إِنَّ کہا: تم تو کہتے ہو کہ ابو ہریرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُوْلِ کی حدیثیں بہت بیان کرتا ہے اور کہتے ہو کہ مہاجرین اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُوْلُوْنَ : مَا اور انصار کو کیا ہوا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بَالُ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ لَا يُحَدِّثُوْنَ ایسی حدیثیں بیان نہیں کرتے جیسے ابو ہریرہ حدیثیں