صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 2
صحيح البخاری جلدم ۳۴- كتاب البيوع کوئی گناہ نہیں اور جب باہم خرید و فروخت کرو تو گواہ مظہر الیا کرو اور کاتب کو تکلیف نہ دی جائے اور نہ گواہ کو ؟ اور اگر تم ایسا کرو گے تو یہ بات تم میں نافرمانی کی علامت ہوگی اور اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور اللہ تعالیٰ تمہیں علم دے گا اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔مذکورہ بالا آیتیں لین دین سے متعلق اُصولی ہدایات پر مشتمل ہیں، جن کی تفصیل آئندہ ابواب میں آئے گی۔پہلی آیت کا تعلق تجارتی اور سودی کاروبار کے درمیان فرق سے ہے۔جس کی وجہ سے شریعت نے ایک کی اجازت دی اور دوسری سے منع فرمایا ہے۔تجارت سے جو فائدہ تاجر کو حاصل ہوتا ہے، وہ صرف اُس کے روپے کا نتیجہ نہیں بلکہ اُس کے عمل کا بھی ہے۔عمل میں نہ صرف جسمانی محنت اور جد و جہد شامل ہے جو تاجر کو ضروریات مہیا کرنے میں کرنی پڑتی ہے؛ بلکہ اُس کی ذہنی قابلیت بھی شامل ہوتی ہے جس سے وہ ضروریات کا صحیح اندازہ کرتا ہے۔طلب اور اس کا صحیح تقاضا سمجھ کر مطلوبہ اشیاء ایسی جگہ سے لاتا ہے، جہاں اچھی قسم کی اور مناسب نرخ پر دستیاب ہوتی ہوں۔نرخوں کا اُتار چڑھاؤ کبھی اس کے مد نظر ہوتا ہے۔پس جو نفع تاجر کو ملتا ہے، اُس کے پیچھے در حقیقت اس کی جسمانی اور ذہنی کاوش بھی کارفرما ہوتی ہے نہ محض مالی سرمایہ۔اس کے برعکس سود خوار اپنی بدنی اور ذہنی قوتوں سے قطعا کام نہیں لیتا محض مال و دولت کے بل پر دوسروں کی محنت کے نتیجہ سے اپنا حصہ نکالتا ہے۔اُس کا اپنے قومی سے کام نہ لینا اور غرباء کی کمزوری سے استفادہ دونوں باتیں نہ صرف اخلاقی لحاظ سے بلکہ بعض دور رس اقتصادی بدنتائج کی رو سے بھی نا جائز ہی نہیں بلکہ ظالمانہ اور معاشرہ کے لئے سخت مضر ہیں؛ افراد کے لئے بھی اور قوم کے لئے بھی۔اس کی تفصیل اپنے موقع پر بیان ہوگی اور اس سے يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ کا مفہوم بھی انشاء اللہ تعالیٰ واضح ہو جائے گا۔دوسری آیت کا تعلق نفع بخش تجارت اور اُس کی تعریف سے ہے۔جس کی طرف تِجَارَةٌ حَاضِرَةٌ تُدِيرُوْنَهَا توجہ دلاتی ہے۔لفظ إِدَارَةَ کے معنی ہیں گردش دینا۔یعنی طلب کے مطابق اشیاء مہیا کرنے کا مسلسل انتظام بیع و شراء یعنی تجارت نام ہے اشیاء کے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل ہونے کا۔اس طریقہ کار میں روپیہ ( و دولت ) کا کام صرف نقل و حرکت میں سہولت پیدا کرنا ہے۔اسی سہولت کی غرض سے سکہ ایجاد ہوا؛ جس کا اصطلاحی نام زر مبادلہ ہے۔کیونکہ وہ اشیاء کی نسبتی قیمتوں کا معیار ہے۔مثلاً ایک زراعت پیشہ اجناس خوراک پیدا کرتا ہے اور ایک کاریگر آلات زراعت بناتا ہے۔زرمبادلہ کے لئے زمیندار اپنے اجناس کا ریگر کو اور کاریگر اپنے آلات زمیندار کو منتقل کرتا ہے۔اسی طرح زرمبادلہ کے ذریعہ تاجر دونوں سے آلات اور اجناس خرید لیتا ہے اور پھر دونوں کے درمیان بطور واسطہ انتقال کام کرتا ہے۔جس کو اجناس کی ضرورت ہو، اسے اجناس اور جسے آلات کی ضرورت ہو، اسے آلات دیتا ہے۔وعلی ھذا القیاس زرمبادلہ اشیاء کے مبادلہ میں بطور واسطہ کام کرتا ہے۔یہی غرض و غایت زرمبادلہ کی ہے کہ بیع شراء کی گردش کو سہولت سے