صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 264
صحيح البخاری جلدم ۲۶۴ ۳۸- كتاب الحوالة ۲۲۸۷ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۲۲۸۷ عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزَّنَادِ عَنِ کہ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابوالزناد سے، الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابو ہریرہ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دولت مند کا ٹال مٹول کرنا بہت بڑا گناہ ہے قَالَ مَطْلُ الْغَنِي ظُلْمٌ فَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ اور جس کو اپنا قرض لینے کے لئے مالدار شخص کے سپرد عَلَى مَلِي فَلْيَتْبَعْ۔اطرافه ۲۲۸۸، ٢٤٠٠۔کیا جائے تو وہ قبول کرے۔تشریح : وَهَلْ يَرْجِعُ فِي الْحَوَالَةِ: آيا زمہ داری قبول کرنے کے بعد ذمہ دارکو مرداری مسح کرنے کا حق پہنچتا ہے یا نہیں؟ اس بارے میں اختلاف ہے۔فقہاء کے ایک گروہ نے حوالہ عقد لازم قرار دیا ہے اور دوسرے فریق کے نزدیک یہ عقد طوعی ہے۔یعنی رضا مندی کا معاملہ ہے جو جواز اور رخصت دونوں صورتیں رکھتا ہے۔جن فقہاء نے اسے عقد لازم قرار دیا ہے، اُن کے نزدیک فتح نہیں ہو سکتا بلکہ وہ طے شدہ شروط کے ساتھ قائم رہے گا۔اسی اختلاف کے پیش نظر عنوان باب میں دو حوالے درج کئے ہیں۔ایک حسن بصری اور قتادہ کا ہے۔دوسرا حضرت ابن عباس ۳ کا ؛ جو ابن ابی شیبہ نے نقل کئے ہیں۔حسن بصری اور قتادہ سے پوچھا گیا تھا کہ اگر محال علیہ مفلس ہو جائے تو کیا ذمہ داری اُس پر قائم رہے گی؟ اس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ محال علیہ ذمہ داری قبول کرنے کے وقت دولت مند تھا تو بحالت افلاس بھی ذمہ دار ہوگا۔(فتح الباری جز ہر صفحہ ۵۸۶) حضرت ابن عباس کے فتوے میں صراحت ہے کہ جس پر ادائیگی قرض کی ذمہ داری عائد ہوتی ہوا گر وہ فوت ہو جائے اور اُس سے وصولی کی کوئی صورت نہ ہو تو مُختَالَ لَهُ اپنا حق مُحِيل سے وصول کرے۔(عمدۃ القاری جز ۱۲۰ صفحه ۱۰۹) فَإِنْ تَوِى لِأَحَدِهِمَا لَمْ يَرْجِعُ عَلَى صَاحِبِهِ : تَوَى الْمَالَ کے معنے هَلَكَ یعنی مال ضائع ہو گیا۔کہتے ہیں: تَوَى حَقُّ فُلَانٍ عَلَى غَرِیمِهِ۔یعنی فلاں کا حق اس کے مدیون کے پاس ضائع ہوگیا۔(عمدۃ القاری جز ۱۲ صفحہ ۱۰۹) مَطْلُ الْغَنِي ظُلم : حدیث زیر باب کا مضمون واضح ہے کہ دولت مند نے حوالہ یعنی ہنڈی قبول کرنے کے بعد جو ادا نہیں کی اور لیت ولعل سے کام لیتا رہا اور پھر وہ مفلس ہو گیا تو وہ قابل مؤاخذہ ہے۔یہی جمہور کا مذہب ہے کہ ہنڈی قبول کرنے کے بعد اس سے انکار نہیں کر سکتا۔امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ امر قاضی کے فیصلہ پر منحصر ہے۔اگر قاضی کی رائے میں حالات موت و افلاس کا تقاضا ہے کہ قرضہ منتقل کرنے والا ادائیگی کا ذمہ دار ہے تو مُختَال لَهُ اُس کی طرف رجوع کرے۔(تفصیل کے لئے دیکھئے عمدۃ القاری جزء ۲ صفحہ ۱۱۱،۱۱۰) 1 مصنف ابن ابی شیبه، كتاب البيوع، باب فى الحوالة أله ان يرجع فيها) مصنف ابن ابی شیبه کتاب البیوع باب فى قوم يرثون الميراث فيبيع بعضهم من بعض)