صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 265
صحيح البخاری جلد ۴ ۲۶۵ بَاب ٢ : إِذَا أَحَالَ عَلَى مَلِي فَلَيْسَ لَهُ رَةٌ ٣٨- كتاب الحوالة جب کوئی شخص ( مقروض ) مالدار کی طرف اپنا قرض ادائیگی کیلئے منتقل کر دے تو اُسے نہیں چاہیے کہ رڈ کرے ۲۲۸۸ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ :۲۲۸۸: ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا کہ سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ ذَكْوَانَ عَن (ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے (عبداللہ ) الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بن ذکوان سے ، ابن ذکوان نے اعرج سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریر ہا نے عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: مَطْلُ الْغَنِي ظُلْمٌ وَمَنْ أُتَّبِعَ عَلَى مَلِي دولت مند کا قرض ادا کرنے میں دیر لگا نا ظلم ہے اور اگر تم میں سے کسی ایک کو کسی مالدار پر ہنڈی دی فَلْيَتَّبِعْ۔اطرافه: ۲۲۸۷، ٢٤۰۰۔جائے تو قبول کرلے۔۔٤٠٠۔إِذَا أَحَالَ عَلَى مَلِي فَلَيْسَ لَهُ رَدُّ : اس باب کو قائم کر کے افراد معاشرہ کی توجہ اس طرف مبذول کرائی گئی ہے کہ لین دین کے معاملات میں سہولت کی راہ اختیار کریں اور دولت مند کا فرض ہے کہ تشریح: قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام نہ لے۔بَاب : إِنْ أَحَالَ دَيْنَ الْمَيِّتِ عَلَى رَجُلٍ جَازَ اگر کوئی شخص میت کا قرضہ کسی شخص کی طرف منتقل کرے تو یہ جائز ہوگا ۲۲۸۹ : حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ۲۲۸۹: مکی بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ الى عبید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حضرت سلمہ بن اکوع ابی ابْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ علیہ وسلم کے پاس ہم بیٹھے تھے کہ اتنے میں ایک جنازہ لایا گیا اور لوگوں نے کہا: آپ اس کا جنازہ پڑھیں۔إِذْ أُتِيَ بِجَنَازَةٍ فَقَالُوْا صَلَّ عَلَيْهَا آپ نے پوچھا کیا اس پرکوئی قرض ہے؟ انہوں نے کہا: فَقَالَ هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ قَالُوْا لَا قَالَ فَهَلْ نہیں۔پھر آپ نے پوچھا: کیا اس نے کچھ چھوڑا ہے؟