صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 263
صحيح البخاري - جلد ۴ ٣٨- كتاب الحوالة ٣٨- كِتَابُ الْحَوَالَةِ 0000000000 الْحَوَالَة : حَالَ يَحُولُ حَوَالَةً- اس کے لغوی معنی ہیں ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل ہونا۔ تحویل اور استحالہ اسی لفظ سے مشتق ہیں۔ شرعی اصطلاح میں ایک شخص کا قابل ادا قرضہ اپنے کسی قرض دار کے نام منتقل کرنا۔ دوسرے الفاظ میں قابل ادا قرض کی ذمہ داری دوسرے کے نام پر منتقل کر دینا۔ حوالہ کا اردو زبان میں صحیح ترجمہ ٹھنڈی ہے۔ آج کل لفظ چیک (Cheque) وغیرہ رائج ہیں۔ حوالہ یعنی انتقال ذمہ داری کی صحت کے لئے پانچ شرطیں ہیں :- 1- مجيل (یعنی منتقل کرنے والے ) کی رضا مندی۔ - مُحْتَالِ لَهُ (یعنی جس کے لئے ذمہ داری منتقل کی جائے ) کی رضا مندی۔ مُحَالِ عَلَيْهِ (یعنی جس کی طرف ذمہ داری منتقل کی جائے ) کی منظوری ۔ وہ حق جس کا انتقال کیا جائے ؛ فی الواقعہ محال علیہ کے ذمہ واجب الادا ہو۔ منتقل کی جانے والی چیز معلوم ہو۔ ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحه ۵۸۵) بَاب ۱ : الْحَوَالَةُ وَهَلْ يَرْجِعُ فِي الْحَوَالَةِ یہ باب قرضہ منتقل کرنے کے حکم کے بارے میں ہے اور آیا ( قرضہ منتقل کرنے والا تحریر دینے کے بعد پھر ) تحریر کو واپس لے سکتا ہے وَقَالَ الْحَسَنُ وَقَتَادَةُ إِذَا كَانَ يَوْمَ اور حسن اور قتادہ نے کہا: اگر کوئی شخص اُس دن جب أَحَالَ عَلَيْهِ مَلِيًّا جَازَ۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ اُس کی طرف قرض منتقل کیا گیا تھا، مالدار تھا تو انتقال يَتَخَارَجُ الشَّرِيْكَانِ وَأَهْلُ الْمِيْرَاثِ نافذ ہو چکا۔ اور حضرت ابن عباس نے کہا: اگر دو شریکوں اور وارثوں نے یوں تقسیم کی ہو کہ کسی نے نقد فَيَأْخُذُ هَذَا عَيْنًا وَهَذَا دَيْنَا فَإِنْ تَوِيَ مال لیا اور کسی نے قرض ۔ پھر اگر اُن میں سے کسی کا لِأَحَدِهِمَا لَمْ يَرْجِعْ عَلَى صَاحِبِهِ۔ حصہ ڈوب گیا ہو تو وہ اپنے ساتھی سے نہیں لے گا۔