صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 1 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 1

صحيح البخاری جلدم I بالله الحالي وووو ٣٤- كِتَابُ البَيُوع ۳۴- كتاب البيوع وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: وَاَحَلَّ اللهُ الْبَيْعَ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: اللہ تعالیٰ نے خرید و فروخت وَحَرَّمَ الرِّبوا (البقرة : ۲۷۶) وَقَوْلُهُ : جائز کی ہے اور سود حرام کیا ہے۔اور یہ بھی ارشاد ہے: مگر تجارت دست بدست ہو۔جیسے تم آپس میں إِلَّا اَنْ تَكُونَ تِجَارَةً حَاضِرَةً مال اور رقم ) لے دے کر ایک دوسرے کے حوالے تُدِيرُونَهَا بَيْنَكُمْ۔(البقرة: ۲۸۳) کر دیتے ہو۔ط تشریح: وَاَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرّبوا معاملات خرید وفروخت اور لین دین کے ابواب شروع کرنے سے قبل دو آیتوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ایک آیت میں تجارت کے شرعی جواز اور سودی کاروبار کی حرمت کا ذکر ہے اور دوسری میں تجارتی معاملات کے طریق اور ہدایات کا۔پہلی آیت یہ ہے : الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبوا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُوْمُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسَ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرّبوا وَاَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرّبوا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَآمُرُهُ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أَصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ (البقرة: ۲۷۶) جو لوگ سود کھاتے ہیں، وہ بالکل اسی طرح کھڑے ہوتے ہیں جس طرح وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان ( مرضِ جنون ) نے سخت بدحواس کر دیا ہوا ہو۔یہ (حالت) اس وجہ سے ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ خرید و فروخت بھی بالکل سود ہی کی طرح ہے۔حالانکہ اللہ نے خرید وفروخت جائز قرار دی ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔سو جس شخص کے پاس اس کے رب کی طرف سے کوئی نصیحت کی بات آئے اور وہ سن کر ( خلاف ورزی سے ) باز آ جائے تو جو (لین دین) وہ پہلے کر چکا ہے اُس کا نفع اُسی کا ہے اور اُس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے اور جو لوگ پھر ( وہی کام کریں۔تو وہ آگ میں رہنے والے ہیں، اسی میں پڑے رہیں گے۔دوسری آیت یہ ہے: ط ط إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً حَاضِرَةٌ تُدِيرُونَهَا بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَلَّا تَكْتُبُوهَا وَأَشْهِدُوْا إِذَا تَبَايَعْتُمُ وَلَا يُضَارٌ كَاتِبٌ وَّلَا شَهِيدٌ وَإِنْ تَفْعَلُوا فَإِنَّهُ فُسُوقٌ بِكُمْ وَاتَّقُوا اللهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللهُ وَاللهُ بِكُلّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ ) (البقرة: ۲۸۳ ) یعنی (لین دین کا لکھنا ضروری ہے۔) بجز اس صورت کے کہ تجارت دست بدست ہو؟ جسے تم آپس میں ( مال اور رقم ) لے دے کر معاملہ دم نقد کر لیتے ہو۔اس صورت میں اس (لین دین) کے نہ لکھنے پر تم پر