صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 252
صحيح البخاری جلدم - ۲۵۲ 5-۳۷ الإجارة لَأَرْقِي وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَقَدِ اسْتَضَفْنَاكُمْ ہم نے تم سے چاہا کہ تم ہمیں مہمان بناؤ اور تم نے ہمیں فَلَمْ تُضَيِّفُوْنَا فَمَا أَنَا بِرَاقٍ لَكُمْ حَتَّى مہمان نہ بنایا۔پس میں بھی تمہارے لئے ہر گز دم نہ نہ ہرگز کروں گا جب تک کہ تم ہم سے معاوضہ نہ ٹھہرا لو۔آخر تَجْعَلُوْا لَنَا جُعْلًا فَصَالَحُوْهُمْ عَلَى انہوں نے ان کو چند بکریوں پر راضی کر لیا۔اس پر وہ قَطِيعِ مِنَ الْغَنَمِ فَانْطَلَقَ يَنْفِلُ عَلَيْهِ اُس شخص پر دم کر کے تھوکنے لگا اور ( ساتھ ساتھ ) وَيَقْرَأُ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِین پڑھتا جاتا، یہاں تک کہ فَكَأَنَّمَا نُشِطَ مِنْ عِقَالِ فَانْطَلَقَ يَمْشِي مریض ایسا اچھا ہو گیا کہ گویا اُس کی بندش دُور ہو گئی اور وَمَا بِهِ قَلَبَةٌ قَالَ فَأَوْفَوْهُمْ جُعَلَهُمُ وہ چلنے لگا اور اُس کو کوئی درد نہ رہا۔راوی کہتے تھے: انہوں نے جس مزدوری پر راضی کیا تھا، انہوں نے وہ الَّذِي صَالَحُوْهُمْ عَلَيْهِ فَقَالَ بَعْضُهُمُ پوری کی پوری دے دی۔صحابہ میں سے کسی نے کہا: اقْسِمُوْا فَقَالَ الَّذِي رَقَى لَا تَفْعَلُوْا (معاوضہ کو ) تقسیم کر لو۔جس نے دم کیا تھا وہ کہنے لگا: حَتَّى نَأْتِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جب تک ہم نبی ﷺ کے پاس واپس نہ پہنچ جائیں اور فَنَذْكُرَ لَهُ الَّذِي كَانَ فَتَنْظُرَ مَا يَأْمُرُنَا جو کچھ واقع ہوا وہ آپ سے بیان نہ کر لیں ، معاوضہ فَقَدِمُوا عَلَى رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ تقسیم نہیں کرنا چاہیے۔( یہ مناسب ہے کہ ہم حضور کی خدمت میں پہنچیں ) اور معلوم کرلیں کہ حضور اس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوْا لَهُ فَقَالَ وَمَا بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ثُمَّ قَالَ قَدْ أَصَبْتُمْ آئے اور سارا واقعہ بیان کیا۔آپ نے پوچھا تمہیں اقْسِمُوْا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ سَهْما کیسے علم ہوا کہ وہ (سورۂ فاتحہ ) دم ہے؟ پھر فرمایا: تم فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے اچھا کیا کہ معاوضہ لیا۔اب اسے آپس میں بانٹ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ شُعْبَةُ حَدَّثَنَا لو اور میرا بھی اپنے ساتھ ایک حصہ رکھ لو۔پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔ابوعبداللہ ( امام بخاری) نے کہا: شعبہ نے یوں کہا: ابو بشر نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) میں نے ابو المتوکل سے یہی سنا ہے۔أَبُو بِشْرٍ سَمِعْتُ أَبَا الْمُتَوَكَّلِ بِهَذَا۔اطرافه ٥٠٠٧، ٥٧٣٦ ٥٧٤٩ تشريح : مَا يُعْطَى فِى الرُّقْيَةِ عَلَى أَحْيَاءِ الْعَرَبِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ : امام ابوحنیفہ وغیرہ نے آیات قرآن مجید کی برکت سے جہاں علاج معالجہ کرنے کی اجازت کا فتویٰ دیا ہے، وہاں تعلیم قرآن پر