صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 253
صحيح البخاری جلد ۴ ۲۵۳ ۳۷- كتاب الإجارة أجرت لینا ناجائز قرار دیا ہے کیونکہ قرآن مجید پڑھانا ایک قسم کی عبادت ہے۔ جیسا کہ اذان اور امامت الصلاۃ میں بھی اجرت لینا ان کے نزدیک جائز نہیں۔ (عمدۃ القاری جزء میں ۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحه (۹۵) امام احمد بن امام احمد بن حنبل نے حضرت عبد الرحمن بن شیل کی ایک مرفوع روایت نقل کی ہے جس کے یہ الفاظ ہیں : اَقْرِوُا الْقُرْآنَ وَلَا تَأْكُلُوا بِهِ وَلَا تَسْتَكْثِرُوا بِهِ وَلَا تَجْفُوًا عَنْهُ۔ یعنی قرآن مجید پڑھاؤ لیکن اس کو روزی کا ذریعہ نہ بناؤ اور نہ اس کے لیے زیادہ مطالبہ کرو اور اس کے پڑھانے سے اعراض نہ کرو۔ (مسند احمد ! بن حنبل، مسند المكيين، زيادة في حديث عبد الرحمن بن شبل، جز ۳ صفحه ۴۲۸) مگر امام شافعی اور ابولیث وغیرہ کے نزدیک اس قسم کی اُجرت جائز ہے۔ جمہور کا بھی یہی فتویٰ ہے۔ علامہ عینی نے عدم جواز کے بارے میں متعدد روایتیں نقل کی ہیں جن میں امام احمد بن حنبل کی مذکورہ بالا روایت بھی ہے۔ 7 ( عمدة القاری جزء ۱۲۰ صفحه ۹۵ تا ۹۷) أَحَقُّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللهِ : جن ائمہ نے تعلیم قرآن پر اجرت نا جائز قرار دی ہے انہوں نے حدیث أَحَقُّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللهِ میں لفظ آجر کے معنی ثواب کئے ہیں۔ گویا ان کے نزدیک اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے: کتاب اللہ سب سے زیادہ متحق ہے کہ تم اس پر اجر لو یعنی ثواب حاصل کرو۔ حضرت ابن عباس کی یہ روایت کتاب الطب، باب ۳۴ میں مذکور ہے۔ (دیکھئے روایت نمبر ۵۷۳۷) عنوانِ باب کے تعلق میں دو سوال اُٹھائے گئے ہیں کہ اگر آیات کے ذریعے دم کر کے علاج کرنا جائز ہے تو عرب قبیلے سے اس کی کیا تخصیص ۔ جائز بات کسی جگہ یا کسی قوم سے مخصوص کرنا درست نہیں۔ علاوہ ازیں عنوان باب میں قرآن سکھانے کا کیا حل ہے اور جو فتوے نقل کئے گئے ہیں، ان کا نفس مضمون سے کیا تعلق ہے۔ ان سوالوں کا جواب یہ ہے کہ امام موصوف کے نزدیک اشاعت اسلام کی غرض سے قبائل عرب میں سورہ فاتحہ کی تلاوت کر کے علاج معالجہ کرنا جائز تھا کہ وہ اہل زبان تھے اور سورۂ فاتحہ نہ صرف جامع دعا ہی ہے بلکہ اس ۔ اہے بلکہ اس کے اندر اسلامی تعلیم کا خلاصہ ہے۔ بیماری کے موقع پر اس کے ذریعے علاج کرنے میں ان اقوام کو ترغیب دلانے کا موقع اتھا کہ وہ اس پر غور کریں اور سمجھیں۔ عیسائیوں نے طریق علاج معالجہ سے تبلیغ عیسائیت میں بہت بڑا کام لیا ہے۔ لَا يَشْتَرِطُ الْمُعَلِّمُ إِلَّا أَنْ يُعْطَى شَيْئًا فَلْيَقْبَلُهُ : امام شعبی کا حوالہ ابن ابی شیبہ نے موصولا نقل کیا ہے کہ قرآن مجید کی تعلیم پر اجرت کا مطالبہ نہیں ہونا چاہیے ۔ لیکن اگر دی جائے تو رڈ نہ کی جائے۔ یہی مفہوم ہے لَا تَأْكُلُوا بِهِ وَلَا تَسْتَكْثِرُوا بِهِ وَلَا تَجْفُوا عَنْهُ کا۔ یہی بات عنوانِ باب میں نمایاں کی گئی ہے اور یہ جواز کی صورت سورة فاتحہ کے ساتھ بھی مقید کی گئی ہے۔ لَمْ اَسْمَعُ أَحَدًا كَرِهَ أَجْرَ الْمُعَلِّمِ : حکم بن عیینہ کا حوالہ بغوی سے جعدیات کے میں منقول ہے۔ انہوں نے علی بن جعد کی روایتیں ایک جگہ اکٹھی کی ہیں۔ ان میں سے ان کی یہ روایت بھی ہے کہ معاویہ بن قرہ معلم کے نزدیک معلم قرآن کی اجرت جائز تھی ۔ ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحه ۵۷۳) (مصنف ابن ابی شیبه، كتاب البيوع والأقضية، باب في أجر المعلم، جز ۴۰ صفحه ۳۴۰) (مسند ابن الجعد الجزء الرابع شعبة عن ابي إياس معاوية بن قرة بن إياس، جزء اول صفحه ۱۷۰)