صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 250 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 250

صحيح البخاری جلد ۴ ۲۵۰ ۳۷- كتاب الإجارة لَمَيِّتٌ ثُمَّ مَبْعُوثُ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّهُ کہا دیکھ ۔ اللہ کی قسم ! تو مر کر بھی جی اُٹھے پھر بھی میں سَيَكُونُ لِي ثُمَّ مَالٌ وَوَلَدٌ فَأَقْضِيْكَ ایسانہ کروں گا۔ اس نے کہا کیا سچ مچ میں مرکر پھر اٹھایا جاؤں گا ؟ میں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: پھر تو وہاں بھی فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى : أَفَرَعَيْتَ الَّذِي میرے لئے مال اور اولاد ہوگی۔ پھر وہیں تیرا قرضہ ادا كَفَرَ بِايْتِنَا وَقَالَ لَأَوْتَيَنَ مَالًا کروں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : کیا وَوَلَدًا (المريم: ۷۸) تو نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا کہ ضرور مجھے مال اور اولاد دی جائے گی۔ اطرافه: ٢٠٩١، ٢٤٢٥، ٤٧٣٢، ٤٧٣٣، ٤٧٣٤، ٤٧٣٥۔ تشريح : هَلْ يُؤَاجِرُ الرَّجُلُ نَفْسَهُ مِنْ مُّشْرِكَ فِي أَرْضِ الْحَرْبِ : امام بخاری نے مسئلہ معنون بصورت استفتاء رکھ کر جواب حذف کر دیا ہے۔ گویا ان کا مذہب یہ ہے کہ ضرورہ کسی مسلمان کا کسی غیر مسلم کے ساتھ کاروباری معاملہ کرنا جائز ہے۔ فقہاء نے اس بار ہے۔ فقہاء نے اس بارے میں دو شرطیں عائد کی ہیں کہ (1) کاروبار ایسا ہو جو مسلمان کے لئے کرنا جائز ہو۔ (۲) وہ مسلمانوں کے لئے نقصان رساں نہ ہو۔ ( فتح الباری جزء ۴ صفحه ۵۷۱) حضرت خباب رضی اللہ عنہ مکہ میں لوہارے کا کام کرتے تھے اور مسلمان ہونے کے باوجود انہوں نے عاص بن وائل کا کام کیا جو مسلمانوں کا دشمن اور مذہبا مشرک تھا۔ یہ روایت کتاب البیوع، باب ۲۹ میں گزر چکی ہے اور كتاب التفسير، سورة كهيعص ( سورۃ مریم ) میں بھی آئے گی۔ باب ١٦ : مَا يُعْطَى فِي الرُّقْيَةِ عَلَى أَحْيَاءِ الْعَرَبِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ عربوں کے قبیلوں پر سورہ فاتحہ کے دم کرنے کے عوض ان کی طرف سے جو کچھ پیش کیا جائے سے ( اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ ) وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله اور حضرت ابن عباس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا کرتے ہوئے کہا: جن کاموں پر تم اجرت لیتے ہو، ان سب سے اجرت لینے کے زیادہ لائق اللہ ہی کی کتاب كِتَابُ اللَّهِ ۔ وَقَالَ الشَّعْبِيُّ لَا يَشْتَرِطُ ہے۔ اور شعمی نے کہا: (قرآن مجید ) سکھانے والا الْمُعَلِّمُ إِلَّا أَنْ يُعْطَى شَيْئًا فَلْيَقْبَلْهُ (معاوضہ کی ) شرط نہ کرے، ہاں اگر اسے ( متعلم کی وَقَالَ الْحَكَمُ لَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا كَرِهَ طرف سے ) کچھ پیش کر دیا جائے تو قبول کرلے۔