صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 249 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 249

صحيح البخاري - جلد ۴ ۲۴۹ ۳۷- كتاب الإجارة اپنی شرطوں کا پاس کرنا چاہیے اور وہ اپنی مقرر کردہ شرطوں کے مطابق معاہدہ پورا کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ یہ قول علاوہ ابن ابی شیبہ کے ابوداؤد، دار قطنی ، حاکم اور اسحاق نے بھی نقل کیا ہے یا حاکم کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں : مَا وَافَقَ الْحَقِّ ۔ یعنی مسلمان اپنی طے کردہ شرطوں پر قائم رہیں ، جب تک وہ شرطیں حق کے موافق ہوں ، اور اسحاق کی ر کی روایت کے آخر میں ہے: اِلَّا شَرْطًا حَرَّمَ حَلَالًا اَوْ اَحَلَّ حَرَامًا - یعنی سوائے اس شرط کے جو حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دے، وہ جائز نہیں ہوگی ۔ (فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ ۵۷ ) (عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحه ۹۴ ) لَا يَكُونُ لَهُ سِمْسَارًا : اس باب کے تحت جو حدیث لائی گئی ہے وہ کتاب البیوع باب ۶۸ میں بھی گذر چکی ہے۔ حدیث مذکورہ بالا سے دلالی کا پیشہ بظاہر ممنوع معلوم ہوتا ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ بائع اور مشتری جو اصل حاجت مند ہیں، ان کے درمیان جتنے واسطے ہوں گے، ان سے اشیاء کا نرخ بڑھے گا، کم نہ ہوگا ۔ کیونکہ ہر واسطہ اپنی محنت کا معاوضہ چاہے گا اور ان درمیانی معاوضوں کا اثر منڈی میں اشیاء کے نرخوں کو بڑھانے کا موجب ہوگا ۔ مگر بعض حالات میں دلال سے جو خیر خواہ اور دیانت دار ہو، مدد لی جاسکتی ہے۔ کیونکہ وہ روز مرہ کے تجربے سے منڈی کے اُتار چڑھاؤ سے خوب واقف ہوتا ہے اور نا واقف تاجر یا خریدار کو نقصان سے بچنے میں مدد دے سکتا ہے۔ باب ١٥ : هَلْ يُؤَاجِرُ الرَّجُلُ نَفْسَهُ مِنْ مُّشْرِكَ فِي أَرْضِ الْحَرْبِ کیا کوئی شخص دار الحرب میں کسی مشرک کے ساتھ مزدوری کا معاملہ کر سکتا ہے؟ ٢٢٧٥ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ۲۲۷۵ عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا، (کہا) کہ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ میرے باپ نے ہم سے بیان کیا کہ اعمش نے ہمیں عَنْ مَّسْرُوْقٍ حَدَّثَنَا حَبَّابٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بتایا۔ انہوں نے مسلم ( بن سبی) سے مسلم نے مسروق سے روایت کی (مسروق نے کہا) کہ حضرت خباب قَالَ كُنْتُ رَجُلًا فَيْنَا فَعَمِلْتُ لِلْعَاصِ (بن آرت) رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں ابْنِ وَائِلٍ فَاجْتَمَعَ لِي عِنْدَهُ فَأَتَيْتُهُ نے کہا: میں کاریگر آدمی تھا اور میں نے عاص بن وائل کا أَتَقَاضَاهُ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ لَا أَقْضِيْكَ کام کیا۔ اس کے پاس میری مزدوری جب اکٹھی ہوگئی، میں اس سے مزدوری کا مطالبہ کرنے کے لئے گیا۔ اس حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ فَقُلْتُ أَمَا وَاللَّلہ نے کہا الل کی قسم میں تمہیں تمہاری مزدوری ) ہرگز حَتَّى تَمُوْتَ ثُمَّ تُبْعَثَ فَلَا قَالَ وَإِنِّي نہیں دوں گا جب تک کہ تم محمدؐ کا انکار نہ کرو۔ میں نے (مصنف ابن ابي شيبة، كتاب البيوع، باب من قال المسلمون عند شروطهم) (ابوداؤد، کتاب الأقضية، باب في الصلح) (سنن الدارقطنی، كتاب البيوع، جز ۳۰ صفحه ۲۷، ۲۸) (المستدرک علی الصحیحین، کتاب البیوع، جزء ۲ صفحہ ۵۷)