صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 248
صحيح البخاري - جلد ۴ ۲۴۸ ۳۷- كتاب الإجارة رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى النَّبِيُّ ان کے باپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَلَقَّى روایت کی ۔ (انہوں نے کہا:) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلے سے آگے بڑھ کر ملا الرُّكْبَانُ وَلَا يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ قُلْتُ (اس سے منع فرمایا ہے کہ قافلے - جائے (اور فرمایا : ) شہری باہر والے کے لیے نہ بیچے۔ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ مَا قَوْلُهُ لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ میں نے کہا: اے ابن عباس! آنحضرت ﷺ کے اس لِبَادٍ قَالَ لَا يَكُوْنُ لَهُ سِمْسَارًا ۔ قول کا کیا مطلب ہے کہ شہری باہر والے کے لئے نہ بیچے؟ انہوں نے کہا: اس کا یہ مطلب ہے کہ اس کا إطرافه: ٢١٥٨، ٢١٦٣۔ دلال نہ بنے۔ تشريح : أَجْرُ السَّمُسَرَةِ: آپس میں معاملہ کی ایک صورت دلائی بھی ۔ بھی ہے۔ بعض فقہاء نے اسے مکروہ جانا ہے۔ انہی کے رد میں باب قائم کیا گیا ہے۔ جس کے لئے عنوانِ با ان باب ہی میں بعض فتوے نقل کئے گئے ہیں۔ ابن سیرین اور ابراہیم نخعی کا فتوی ابن ابی شیبہ نے موصولاً روایت کیا ہے۔ حسن بصری کا بھی یہی فتوی ہے۔ اوّل الذکر دونوں فقیہوں کا فتوئی ان الفاظ میں ہے : لا لَا بَأْسَ بِأَجْرِ السِّمْسَارِ إِذَا اشْتَرَى يَدًا بِيَدِ۔ دلال کے محنتانے انے میں کوئی حرج نہیں، اگر نقد خریدے اور لین دین ہاتھوں ہاتھ ہو۔ لَا بَأْسَ أَنْ يَقُولَ بِعُ هَذَا الثَّوْبَ فَمَا زَادَ عَلَى كَذَا وَكَذَا فَهُوَ لَكَ: حضرت ابن عباس کا فتوی بھی ابن ابی شیبہ نے ہی موصولاً نقل کیا ہے کے چونکہ حضرت ابن عباس کے فتوی میں دلالی کا معاوضہ غیر معین ہے، اس لئے جمہور نے اس کو ناجائز قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر دلال اس معاہدہ کی رُو سے کسی سے سودا کر لے تو منڈی میں جو اس کو ایسے کام پر اجرت مل سکتی ہے، وہ مل جائے گی ۔ امام احمد بن حنبل کے نزدیک حضرت ابن عباس کے فتوی کی بنیاد اس بات پر ہے کہ انہوں نے اس کو قراض کی صورت پر سمجھا ہے؟ جس میں ایک آدمی کا روپیہ اور دوسرے کی محنت ہوتی ہے اور دونوں حسب معاہدہ کرو معاہدہ نفع اور نقصان میں شریک ہوتے ہیں۔ بعض شارحین نے حضرت ابن عباس کے فتوی کو اس شرط کے ساتھ جائز قرار دیا ہے کہ جب دلال کو اور سامان والے کو یہ علم ہو کہ جو قیمت بیچنے کے لئے مقرر کی جا رہی ہے، منڈی میں سامان اس سے کہیں زیادہ قیمت پاسکتا ہے، تب ایسا معاہدہ جائز ہوگا ۔ اکثر فقہاء کا فتوی یہی ہے کہ معاوضہ دلال معین ہونا چاہیے کیونکہ معاملہ کرتے وقت ہر بات واضح ہونی ضروری ہے۔ ( فتح الباری جز ۴۰ صفحه ۵۷۰ ۵۷۱) وَقَالَ النَّبِيُّ اللهِ الْمُسْلِمُونَ عِندَ شُرُوطِهِمُ : یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمانوں کو لے مصنف ابن ابي شيبة ، كتاب البيوع، باب في أجر السمسار) (مصنف ابن ابي شيبة ، كتاب البيوع، باب فى الرجل يدفع الى الرجل الثوب فيقول بعه فما ازددت فلک)