صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 247 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 247

صحيح البخاري - جلد ۴ ۲۴۷ ۳۷- كتاب الإجارة تشريح : مَنْ اجَرَ نَفْسَهُ لِيَحْمِلَ عَلَى ظَهْرِهِ ثُمَّ تَصَدَّقَ بِهِ : باب ۱۳ میں دوسرے شخص کو مزدوری nnnn--- پر لگانے کا ذکر تھا اور باب ۱۳ میں اپنے آپ کو کام پر لگانے کا ذکر ہے۔ صحابہ کرام مالی تحریکات میں حصہ لینے کی غرض سے محنت و مشقت کرتے اور جو کماتے ، اس کے ذریعہ صدقہ میں شریک ہوتے۔ حضرت ابو مسعود کی مذکورہ بالا روایت کی مزید وضاحت کے لیے کتاب الزكاة بابا بھی دیکھئے۔ وَإِنَّ لِبَعْضِهِمْ لَمِائَةَ الْفِ : أَى مِنَ الدَّرَاهِمِ أَوِ الدَّنَانِيرِ ۔ یعنی اب اُن میں سے ایک ایک کے پاس ایک ایک لاکھ درہم و دینار ہیں۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحہ ۹۲) اس سے حضرت ابو مسعود کا اشارہ اپنی طرف ہے۔ منڈی میں وہ مزدوری کیا کرتے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انہیں اتنی کشائش دی کہ ان کا شمار دولت مندوں میں ہونے لگا۔ عنوانِ باب میں جملہ أَجْرُ الْحُمَّالِ سے انہی کی مزدوری کی طرف اشارہ ہے۔ بَاب ١٤ : أَجْرُ السَّمْسَرَةِ دلال کی اجرت ( کے بارے میں کیا حکم ہے؟ ) وَلَمْ يَرَ ابْنُ سِيرِينَ وَعَطَاءٌ وَإِبْرَاهِيمُ ابن سیرین، عطاء، ابراہیم اور حسن (بصری) دلال وَالْحَسَنُ بِأَجْرِ السِّمْسَارِ بَأْسًا۔ کی اُجرت میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ اور حضرت وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَا بَأْسَ أَنْ يَقُوْلَ بِعْ ابن عباس نے کہا: کوئی مضائقہ نہیں کہ ایک شخص هَذَا الثَّوْبَ فَمَا زَادَ عَلَى كَذَا وَكَذَا (دوسرے سے ) کہے کہ یہ کپڑا (اتنی قیمت پر بیچ فَهُوَ لَكَ۔ وَقَالَ ابْنُ سِيْرِيْنَ إِذَا قَالَ آؤ اور اس سے جو زیادہ ملے وہ تمہارا ہے۔ اور بِعْهُ بِكَذَا فَمَا كَانَ مِنْ رِبْحٍ فَلَكَ ابن سیرین نے کہا: جب کوئی کہے اس کو اتنے پر پیچ دو أَوْ بَيْنِي وَبَيْنَكَ فَلَا بَأْسَ بِهِ۔ وَقَالَ جو منافع ہوگا تو وہ تمہارا۔ یا (کہے) میرا اور تمہارا، النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمُوْنَ تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم عِنْدَ شُرُوطِهِمْ۔ نے فرمایا: مسلمان اپنی شرطوں پر قائم رہیں۔ ٢٢٧٤: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۲۲۷۴ : مسدد نے ہم سے بیان کیا ، (کہا) کہ عبدالواحد عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ (بن زیاد ) نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں بتایا۔ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ انہوں نے ابن طاؤس سے، انہوں نے اپنے باپ سے،