صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 244 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 244

صحيح البخاری جلدم ۲۴۴ ۳۷- كتاب الإجارة أَنْ تَدْعُوا اللَّهَ بِصَالِحٍ أَعْمَالِكُمْ فَقَالَ تب ان میں سے ایک شخص نے کہا: اے میرے اللہ ! رَجُلٌ مِّنْهُمْ اللَّهُمَّ كَانَ لِي أَبَوَانِ میرے ماں باپ بہت بوڑھے تھے اور میں اُن سے شَيْخَانِ كَبِيرَانِ وَكُنْتُ لَا أَغْبِقُ پہلے کسی اور کو دودھ نہ پلاتا تھا، نہ بال بچوں کو نہ نوکروں کو۔ایک دن میں کسی چیز کی تلاش میں دور نکل قَبْلَهُمَا أَهْلًا وَلَا مَالًا فَنَأَى بِي فِي گیا اور شام کو اُس وقت واپس آیا کہ وہ سو گئے تھے۔طَلَبِ شَيْءٍ يَوْمًا فَلَمْ أُرِحْ عَلَيْهِمَا حَتَّى نَامَا فَحَلَبْتُ لَهُمَا غَبُوْقَهُمَا میں نے ان کے لئے ان کے شام کے پینے کا دودھ دو ہا مگر انہیں سویا ہوا پایا ، اور میں نے پسند نہ کیا کہ اُن فَوَجَدْتُهُمَا نَائِمَيْنِ فَكَرِهْتُ أَنْ أَغْبِقَ سے پہلے بال بچوں یا لونڈی غلام کو دودھ پلاؤں۔قَبْلَهُمَا أَهْلًا أَوْ مَالًا فَلَبِقْتُ وَالْقَدَحُ میں بھہر گیا۔پیالہ میرے ہاتھ میں تھا، اُن کے جاگنے عَلَى يَدَيَّ أَنْتَظِرُ اسْتِيْقَاظَهُمَا حَتَّى کا انتظار کرتا رہا؟ یہاں تک کہ جب خوب صبح ہوگئی بَرَقَ الْفَجْرُ فَاسْتَيْقَظَا فَشَرِبَا اور وہ دونوں جاگ اٹھے تو انہوں نے دودھ پیا۔غَبُوْقَهُمَا اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِكَ اے میرے اللہ ! اگر میں نے یہ عمل تیری خوشنودی ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَفَرِّجْ عَنَّا مَا نَحْنُ فِيْهِ کے لئے کیا تھا تو اس پتھر کی وجہ سے جس مصیبت میں مِنْ هَذِهِ الصَّخْرَةِ فَانْفَرَجَتْ شَيْئًا ہم ہیں، وہ ہم سے دور کر۔اس پر وہ پھر کچھ سرک گیا اللَّهُمَّ كَانَتْ لِي بِنْتُ عَمَ كَانَتْ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيَّ فَأَرَدْتُهَا عَنْ نَّفْسِهَا لَا يَسْتَطِيعُونَ الْخُرُوجَ قَالَ النَّبِيُّ مگر وہ غار سے نکل نہیں سکتے تھے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ الْآخَرُ نے فرمایا: دوسرے نے کہا: اے میرے اللہ! میری ایک چچا کی بیٹی تھی جو مجھے بہت ہی پیاری تھی۔میں نے اسے پھسلانا چاہا، وہ مجھ سے بچتی رہی یہاں تک کہ قحط سالی میں مبتلا ہوئی اور وہ میرے پاس آئی۔میں فَامْتَنَعَتْ مِنِّي حَتَّى أَلَمَّتْ بِهَا سَنَةٌ نے اسے ایک سو بیس اشرفیاں دیں، اس شرط پر کہ وہ مِنَ السَّنِيْنَ فَجَاءَتْنِي فَأَعْطَيْتُهَا مجھے خلوت میں ملے۔اس نے ایسا ہی کیا، یہاں تک کہ عِشْرِيْنَ وَمِائَةَ دِينَارٍ عَلَى أَنْ تُخَلَّيَ جب وہ پوری طرح میرے قابو میں آگئی تو وہ کہنے لگی: بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِهَا فَفَعَلَتْ حَتَّى إِذَا میں تیرے لئے یہ جائز نہیں قرار دیتی کہ تو اس مہر کو