صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 243
صحيح البخاری جلدم ۲۴۳ ۳۷- كتاب الإجارة فَذَلِكَ مَثَلُهُمْ وَمَثَلُ مَا قَبِلُوْا مِنْ یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا اور انہوں نے دونوں فریقوں کی مزدوری پوری لے لی۔پس یہ مثال ہے هَذَا النُّوْرِ۔طرفه: ٥٥٨ ان کی اور اس نور کی جو انہوں نے قبول کیا ہے۔تشريح : الْإِجَارَةُ مِنَ الْعَصْرِ إِلَى اللیل: بخاری کے بعض نسخوں میں یہ باب بود تعلق مضمون دسویں : باب سے پہلے ہے۔(فتح الباری شرح باب ۱۰، جزء یہ صفحہ ۵۶۵) اس تعلق میں باب ۸، ۹ کی تشریح دیکھئے۔باب ۱۲ مَنِ اسْتَأْجَرَ أَجِيْرًا فَتَرَكَ أَجْرَهُ فَعَمِلَ فِيْهِ الْمُسْتَأْجِرُ فَزَادَ أَوْ مَنْ عَمِلَ فِي مَالِ غَيْرِهِ فَاسْتَفْضَلَ جو شخص کسی مزدور کو کام پر لگائے پھر وہ مزدور اپنی مزدوری چھوڑ کر چلا جائے تو مزدور لگانے والا اس کی مزدوری کو کام کاج پر لگا کر بڑھا دے یا جو شخص کسی دوسرے کے مال میں محنت کرے اور اس کو بڑھا دے ( تو یہ جائز ہے) شُعَيْبٌ عَنِ ۲۲۷۲: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۲۲۷۲ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي سَالِمُ ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے روایت کی۔(زہری ابْنُ عَبْدِ اللهِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ نے کہا :) سالم بن عبد اللہ نے مجھے بتایا کہ حضرت عبداللہ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ بن عمر رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رضِيَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے سنا۔آپ فرماتے تھے: ان لوگوں میں سے جو تم يَقُوْلُ انْطَلَقَ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ مِمَّنْ كَانَ سے پہلے تھے، تین آدمی کسی سفر میں نکلے ، یہاں تک کہ ایک غار میں رات بسر کرنے کے لئے داخل ہو گئے۔قَبْلَكُمْ حَتَّى أَوَوُا الْمَبِيْتَ إِلَى غَارٍ او پر سے ایک پہاڑ کا بڑا پتھر گرا اور انہیں غار میں بند فَدَخَلُوْهُ فَانْحَدَرَتْ صَخْرَةٌ مِّنَ کردیا۔اس پر وہ کہنے لگے: اس پتھر سے ہمیں کوئی الْجَبَلِ فَسَدَّتْ عَلَيْهِمُ الْغَارَ فَقَالُوا نجات نہیں دے گا ہاں تم اللہ سے اپنے نیک اعمال کا إِنَّهُ لَا يُنْجِيْكُمْ مِنْ هَذِهِ الصَّخْرَةِ إِلَّا واسطہ دے کر دعا کرو (تو یہ مشکل حل ہوسکتی ہے۔)