صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 235
صحيح البخاری جلد ۴ ۲۳۵ ۳۷- كتاب الإجارة ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنْ خبر دی، کہا: عطاء (بن ابی رباح) نے مجھے بتایا۔ انہوں صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ نے صفوان بن یعلیٰ سے، صفوان نے حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ جيش العسرة (یعنی جنگ تبوک میں نبی صلی اللہ علیہ وسم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ کے ساتھ جنگ میں شامل ہوا تھا اور میرے نزدیک یہ فَكَانَ مِنْ أَوْثَقِ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي کام میرے اُن اعمال میں سے تھا جو (بلحاظ ثواب) سب فَكَانَ لِي أَجِيْرٌ فَقَاتَلَ إِنْسَانًا فَعَضَّ سے بڑھ کر قابل بھروسہ ہو سکتے تھے۔ (میرے ساتھ ) أَحَدُهُمَا إِصْبَعَ صَاحِبِهِ فَانْتَزَعَ إِصْبَعَهُ مِیرا ایک مزدور بھی تھا جو ایک آدمی سے لڑ پڑا۔ لڑائی کے دوران ان دونوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ فَسَقَطَتْ فَانْطَلَقَ إِلَى کی انگلی کاٹ لی۔ جب اس نے اپنی انگلی کوزور سے النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَ کھینچا تو دوسرے کے دانت کو جھٹکا لگا جس سے وہ گر ثَنِيَّتَهُ وَقَالَ أَفَيَدَعُ إِصْبَعَهُ فِي فِيْكَ گیا۔ اس پر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت تَقْضَمُهَا قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ كَمَا يَقْضَمُ لے کر گیا۔ آپ نے اس کے دانت کا کوئی بدلہ نہ دلایا اور فرمایا: کیا وہ اپنی انگلی تیرے منہ میں رہنے دیتا کہ تو الْفَحْلُ۔ اسے چبا جاتا ؟ ( ابن جریج ) کہتے تھے: میرا خیال ہے کہ آپ نے یہ فرمایا: جس طرح سانڈ چباتا ہے۔ اطرافه: ۱٨٤٨ ، ۲۹۷۳، 4417، 6893۔ ٢٢٦٦ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَحَدَّثَنِي ۲۲۶۶ ابن جریج نے یہ بھی کہا کہ عبداللہ بن عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ جَدِهِ ابی ملیکہ نے بھی اپنے دادا ( زہیر بن عبداللہ ) سے بِمِثْلِ هَذِهِ الصِّفَةِ أَنَّ رَجُلًا عَضَّ روایت کرتے ہوئے اس قسم کا واقعہ مجھ سے بیان کیا يَدَ رَجُلٍ فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ فَأَهْدَرَهَا کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کے ہاتھ کو کاٹا۔ اس أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ۔ : نے اس کا اگلا دانت نکال دیا۔ مگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کے دانت کا کوئی بدلہ نہ دلایا۔ ؟ تشريح : الأخيرُ فِي الْغَزُو : آیا حضرت علی بن امی کا ملزم مشر تھا یا مسلم اس بارہ میں مذکورہ بالا روایت خاموش ہے۔ لیکن اس سے کم از کم اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ جہاد جیسے نازک مو ہے کہ جہاد جیسے نازک موقع پر بعض صحابہ نے اُجرت