صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 236
۴۳۶ ۳۷- كتاب الإجارة صحيح البخاری جلد ۴ پر ملازم رکھے اور ان سے کام لینے میں مضائقہ نہیں سمجھا۔تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب الجهاد، باب ۱۲۰: الأجير - جَيْشُ الْعُسْرَةِ : عُشرة کے لفظی معنے ہیں تنگی اور جیش العسرۃ کے معنے ہیں تکلیف برداشت کرنے والی فوج۔ان الفاظ سے غزوہ تبوک کی طرف اشارہ ہے جو سخت گرمی کے ایام میں ہوا۔نیز اس وقت فصلیں پکنے کے قریب تھیں۔چونکہ اس فوج میں جانے والوں نے سخت تکلیف اُٹھائی اور قربانی کی؟ اس لئے یہ جیش العنزہ کے نام سے مشہور ہوئی۔قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَحَدَّثَنِي۔۔۔۔۔روایت نمبر ۲۲۶۶ میں مذکورہ بالا سند سے اس قسم کا ایک اور واقعہ نقل کیا گیا ہے۔بظاہر الفاظ یہ الگ واقعہ معلوم ہوتا ہے مگر اس باب کے عنوان سے اس کا کیا تعلق ہے؟ شارحین نے اس پر سوائے اس کے کوئی روشنی نہیں ڈالی کہ اس میں دیت ساقط کئے جانے کا ذکر ہے۔لیکن مسائل دیت کتاب الدیات میں بیان ہوئے ہیں۔اس سے مذکورہ بالا سوال حل نہیں ہوتا۔البتہ امام ابن حجر نے ایک حل پیش کیا ہے اور علامہ عینی نے بھی اپنی شرح میں اسے قبول کیا ہے اور وہ حل یہ ہے کہ حدیث کے آخر میں بیان شدہ واقعہ محض سند کے ایک شبہ کے ازالہ سے تعلق رکھتا ہے جو عبد اللہ راوی کے بارہ میں پیدا ہوا ہے کہ آیا انہوں نے یہ روایت اپنے دادا سے کی ہے یا پڑ دادا سے۔پڑ دا دا والی روایت جو مسند حاکم میں مذکور ہے، اس روایت کے لحاظ سے عبداللہ اور ان کے پڑدادا کے درمیان ایک اور واسطہ مانا پڑتا ہے اور اس صورت میں روایت منقطع ہو جاتی ہے۔کیونکہ عبداللہ نے اپنے پڑدادا کو نہیں دیکھا۔امام بخاری نے دادا والی روایت کو ترجیح دی ہے۔گویا اس طرف اشارہ کیا ہے کہ دادا والی روایت زیادہ درست ہے کیونکہ اس میں روایت متصل ہو جاتی ہے۔تفصیل کے لیے دیکھئے فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۵۶۱ - عمدۃ القاری جز ۱۲۰ صفحه ۸۵،۸۴- بَاب ٦ : إِذَا اسْتَأْجَرَ أَجِيْرًا فَبَيَّنَ لَهُ الْأَجَلَ وَلَمْ يُبَيِّنِ الْعَمَلَ (اس بارہ میں کہ) جس نے کوئی مزدور رکھا اور اُس کے لئے ( کام کرنے کی ) مدت تو واضح طور پر بیان کر دی مگر کام بیان نہ کیا لِقَوْلِهِ: اِنّى أُرِيدُ انْ اُنْكِحَكَ جیسے قرآن مجید میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خسر کا) یہ إحْدَى ابْنَتَقَيَّ هَتَيْنِ إِلَى قَوْلِهِ وَالله قول بیان ہوا ہے کہ انہوں نے حضرت موسیٰ سے کہا: میں چاہتا ہوں کہ میں تم سے اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کا عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيْل (القصص: ۲۸-۲۹) اور اللہ اس پر جو ہم کہہ رہے ہیں نگران ہے۔(عرب زبان نکاح کر دوں (بشرطیکہ تو آٹھ سال تک میری خدمت کرے) يَأْجُرُ فَلَانًا يُعْطِيهِ أَجْرًا وَمِنْهُ مِیں يَأْجُرُ فُلانًا ( کا فقرہ بولیں تو اس ) کے معنے ہوتے ) فِي التَّعْزِيَةِ آجَرَكَ اللهُ۔ہیں وہ اسے کام کے معاوضہ میں بدلہ دیتا ہے اور انہی معنوں میں یہ فقرہ بھی بولا جاتا ہے جو تعزیت کے وقت کہتے ہیں: اجرک الله کہ اللہ تجھے اس کا بدلہ دے۔عمدۃ القاری میں اس جگہ لفظ ”من“ ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحہ ۸۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔