صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 233
صحيح البخاری جلدم تشریح ۲۳۳ ۳۷- كتاب الإجارة اسْتِجَارُ الْمُشْرِكِينَ عِنْدَ الضَّرُورَةِ : امام مسلم وغیرہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا ہے : إِنَّا لَا نَسْتَعِيْنُ بِمُشْرِک۔ہم مشرکوں سے کام کاج میں مدد نہیں لیتے۔یہ روایت امام بخاری کی شرائط صحت کے مطابق نہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے بھی وہ ساقط الاعتبار ہے۔جیسا کہ روایت زیر باب سے ظاہر ہے۔رَجُلًا مِّنْ بَنِي الدِّيلِ : بوقت ہجرت دیل قبیلہ کے ایک شخص سے اُجرت پر راستہ بتانے کا کام لیا گیا۔اس کا مفصل ذکر واقعہ ہجرت میں آئے گا۔دیل قبیلہ از دقبیلہ کی ایک شاخ ہے۔مؤرخین نے رہبر کے نام میں اختلاف کیا ہے۔ابن اسحاق نے عبداللہ بن ارقم بتایا ہے۔ابن ہشام نے عبد اللہ بن اریقط اور امام مالک نے رقیط۔(عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحه ۸۱) قدیم زمانہ جاہلیت میں جب کوئی قبیلہ کسی دوسرے قبیلے کے ساتھ معاہدہ کرتا تو ایک دوسرے کے ساتھ وفاداری کا حلف اُٹھاتے اور حلف اُٹھاتے وقت پانی میں یا خون میں ہاتھ ڈال کر عہد کرتے۔گویا اس سے اس طرف اشارہ ہوتا تھا کہ اب ہم سب کی عزتیں مشترک ہیں۔اگر ایک شخص کی عزت پر حملہ ہوا تو ہم سب دفاع کریں گے۔(عمدۃ القاری جزء ۲ صفحہ ۸۱) یہ شخص مشرک تھا اور ظاہراً مشرکوں کے ساتھ معاہدہ میں شامل ہوا۔لیکن معلوم ہوتا ہے کہ دلی طور پر اُن کے ساتھ نہ تھا۔اس لئے اس پر اعتماد کیا گیا اور ہجرت کے وقت اس سے فائدہ اُٹھایا گیا۔وَانْطَلَقَ مَعَهُمَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ : عامر بن فہیرہ آزدی پہلے طفیل بن عبداللہ کے مملوک و غلام تھے۔بعد ازاں انہیں حضرت ابو بکر نے خرید کر آزاد کر دیا تھا۔انہوں نے مکہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دار ارقم میں فروکش ہونے سے پہلے اسلام قبول کیا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی اور بئر معونہ کے واقعہ (آھ ) میں شہید ہوئے۔(عمدۃ القاری جز ۱۲۰ صفحه ۸۲) پس نازک وقت اور خطر ناک مہم میں جمہور کے نزدیک قابل اعتماد غیر مسلموں سے کام لیا جاسکتا ہے۔(فتح الباری جز ۴۰ صفحه ۵۵۹) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو ٹھیکے پر خیبر کی زرعی زمینیں دیں۔اسلام کی تعلیم ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ اور صحابہ کرام کا عمل ؛ وسعت حوصله، رواداری، نیک تعاون اور خلق کریم پر مبنی ہے۔اس باب میں یہی ثابت کرنا مقصود ہے۔چنانچہ عنوان میں یہودیان خیبر سے معاملہ کرنے کا حوالہ اسی غرض سے دیا گیا ہے۔(مسلم، كتاب الجهاد والسير، باب كراهة الاستعانة في الغزو بكافر) (ابوداؤد، کتاب الجهاد، باب في المشرك يسهم له)