صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 225
صحيح البخاری جلد ۴ ۲۲۵ ٣٦ - كتاب الشفعة فَجَاءَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ فَوَضَعَ يَدَهُ حضرت مسور بن مخرمہ آئے اور میرے ایک کندھے پر عَلَى إِحْدَى مَنْكِبَيَّ إِذْ جَاءَ أَبُو رَافِعِ انہوں نے اپنا ہاتھ رکھا۔ اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابورافع کہنے لگے: : سعد ! مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ کے آزاد کردہ تمام ایران آئے اور میرے دو گھر جو آپ کی حویلی میں ہیں، خرید لیں حضرت يَا سَعْدُ ابْتَعْ مِنِّي بَيْتَيَّ فِي دَارِكَ فَقَالَ سعد نے کہا: بخدا میں انہیں نہیں خریدوں گا۔ حضرت سَعْدٌ وَاللَّهِ مَا أَبْتَاعُهُمَا فَقَالَ الْمِسْوَرُ مور نے کہا: بخدا آپ نے ضرور انہیں خریدنا ہو گا۔ تو وَاللَّهِ لَتَبْتَاعَتَهُمَا فَقَالَ سَعْدٌ وَاللهِ حضرت سعد نے کہا: بخدا میں آپ کو چار ہزار درہم) لَا أَزِيْدُكَ عَلَى أَرْبَعَةِ آلَافٍ مُنَجَّمَةً أَوْ سے زیادہ نہیں دوں گا اور وہ بھی قسط وار (راوی کہتا ہے کہ انہوں نے لفظ مُنَجَّمَةٌ بولا تھا یا مُقَطَّعَةٌ - مُقَطَّعَةً قَالَ أَبُو رَافِعٍ لَقَدْ أُعْطِيْتُ بِهَا ابورافع نے کہا: مجھے تو اس کی قیمت پانچ سو دینارے ملتی خَمْسَ مِائَةِ دِينَارٍ وَلَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ تھی۔ اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ الْجَارُ جو آپ فرماتے تھے: پڑوسی اپنے قرب کی وجہ سے أَحَقُّ بِسَقَبِهِ مَا أَعْطَيْتُكَهَا بِأَرْبَعَةِ زیادہ حقدار ہے تو میں آپ کو چار ہزار ( در هم ) پر نہ دیتا۔ کیونکہ مجھے تو اس کے پانچ سو دینار مل رہے آلَافٍ وَأَنَا أُعْطَى بِهَا خَمْسَ مِائَةِ تھے۔ (مگر اب میں آپ کو دیتا ہوں۔ چنا ۔ چنانچہ انہوں دِينَارٍ فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ۔ نے حضرت سعد کو وہ گھر دے دیے۔ اطرافه: ٦٩٧٧ ٦٩٧٨، 6980، 6981 تشريح عَرْضُ الشَّفَعَةِ عَلَى صَاحِبِهَا قَبْلَ الْبَيْ : اس باب کا حق ہے شفق سے ہے، جسے مائیگی صیح کی وجہ سے حق شفعہ حاصل ہو۔ اگر پڑوسی زیر فروخت جائیداد خریدنا نہ چاہے تو غیر پڑوسی کو بیچی جاسکتی ہے۔ اطلاع دینے کے بعد حق شفعہ ساقط ہو جاتا ہے۔ ۔ اسی اسی طرح طرح لاعلمی لاعلمی میں میں فروخت فروخت ہونے ہو ۔ کے بعد شفیع کو اگر علم ہو جائے تو حق شہ شفعہ کی رو سے فروخت شدہ جائیداد کا اسی قیمت پر شفیع مستحق ہوگا؛ بشرطیکہ قیمت نقد ادا کی جائے۔ بصورت عدم قدرت ادائیگی حق شفعہ ساقط ہوگا ۔ عنوانِ باب میں ابومحمد حکم بن عتیبہ اور شعمی سے کے قول کا جو حوالہ دیا گیا ہے، وہ ابن ابی شیبہ نے موصولاً نقل کیا ہے۔ لے اس دور میں ایک دینار دس درہم کے برابر تھا۔ ( فتح الباری شرح کتاب العتق باب ۲ ، روایت نمبر ۲۵۱۷، جزء ۵ صفحه ۱۸۳) (مصنف ابن ابی شیبه، كتاب البيوع والاقضية، باب فى الشفيع يأذن للمشترى، جزء۴ صفحه ۵۲۲) (مصنف ابن ابی شیبه، كتاب البيوع والاقضية، باب فى الدار تباع ولها جاران، جزء ۴۰ صفحه ۵۲۱ )