صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 224
صحيح البخاري - جلد ۴ ۲۲۴ ٣٦- كتاب الشفعة (۴) شفعہ کا حق نقصان کے تدارک کے لئے قائم کیا گیا ہے جو کسی شریک کو پہنچ سکتا ہے۔اگر کسی نقصان کا احتمال نہیں تو حق شفعہ نہ رہے گا۔شریک کی رضامندی سے غیر شفیع خرید سکتا ہے۔(4) حق شفعہ صرف اسی جائیداد میں ہوتا ہے جس میں کسی قسم کا اشتراک پایا جائے۔خواہ بسبب قرب وجوار کے یا بسبب استفادہ کے۔مثلاً ایک کنواں ہے جس میں سے محلے کے لوگ پانی حاصل کرتے ہیں۔اگر کنویں کا مالک اسے کسی کے پاس بیچنا چاہے تو پہلا حق فائدہ اُٹھانے والوں کا ہے۔استفادہ بھی حق شفعہ قائم کرتا ہے۔حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی محولہ بالا روایت کے لیے کتاب البیوع باب ۹۶ روایت ۲۲۱۳ دیکھئے۔امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے بھی انہی سے یہی روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے : قَضَى رَسُولُ اللَّهِ هُ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلّ شِرْكَةٍ لَّمْ تُقْسَمُ رَبْعَةٍ أَوْ حَائِطٍ لَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ تَبِعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ فَإِنْ شَاءَ أَخَذَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ فَإِذَا بَاعَ وَلَمْ يُؤْذِنْهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ۔(مسلم، كتاب المساقاة، باب الشفعة) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مشتر کہ جائیداد سے متعلق جو تقسیم نہیں ہوئی ، شفعہ کا فیصلہ فرمایا۔مکان ہو یا باغ مالک کو جائز نہیں کہ وہ اسے بیچے جب تک کہ اپنے شریک کو اطلاع نہ کر دے۔چاہے شریک اسے لے، چاہے نہ لے۔اگر وہ بیچ دے اور اسے اطلاع نہ دی ہو تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔بَاب : عَرْضُ الشُّفْعَةِ عَلَى صَاحِبِهَا قَبْلَ الْبَيْع (جائیداد کے ) فروخت کرنے سے پہلے شفیع کے سامنے شفعہ پیش کرنا وَقَالَ الْحَكَمُ إِذَا أَذِنَ لَهُ قَبْلَ الْبَيْعِ اور حكَم بن عتیبہ ) نے کہا: جب بیع سے پہلے (شفیع ) فَلَا شُفْعَةَ لَهُ وَقَالَ الشَّعْبِيُّ مَنْ اجازت دے دے تو اس کا حق شفعہ نہیں رہتا۔اور بِيْعَتْ شُفْعَتُهُ وَهُوَ شَاهِدٌ لَا يُغَيِّرُهَا شعمی نے کہا ہے کہ اگر جائیداد شفیع کی موجودگی میں بیچی جائے اور وہ خاموش رہے، اعتراض نہ کرے تو فَلَا شُفْعَةَ لَهُ۔اس کے شفعہ کا حق جاتا رہتا ہے۔٢٢٥٨ : حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ :۲۲۵۸ مکی بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ ابن جریج نے ہمیں بتایا ، (کہا) کہ ابراہیم بن میسرہ ابْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ قَالَ نے عمرو بن شرید سے مجھے خبر دی۔انہوں نے کہا: وَقَفْتُ عَلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ میں حضرت سعد بن ابی وقاص کے پاس کھڑا تھا کہ