صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 226 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 226

صحيح البخاری جلد ۴ ۲۲۶ ٣٦ - كتاب الشفعة یعنی شفیع کی طرف سے اجازت ہو یا اُسے علم ہو مگر وہ خاموش رہے تو اس صورت میں بھی حق شفعہ ساقط ہو جاتا ہے۔ یہ باب ان ائمہ کو مد نظر رکھتے ہوئے قائم کیا گیا ہے جنہوں نے سابقہ حدیث کے ظاہری الفاظ کی بناء پر یہ رائے قائم کی ہے کہ قرب و جوار کی وجہ سے جو حق شفعہ حاصل ہے، وہ اُسی وقت بالفعل اثر انداز ہو گا جب اس کا موقع پیدا ہوگا۔ موقع پیدا نہ ہونے کی صورت میں یہ حق اثر انداز نہ ہوگا۔ امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کے نزدیک مشارکت کی صورت ہی میں حق شفعہ پیدا ہوتا ہے اور اس بارہ میں انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے استدلال کیا ہے جو امام مسلم اور طحاوی نے نقل کی ہے۔ اس کے یہ الفاظ ہیں : قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺل الشَّفْعَةُ فِي كُلِّ شِرْكَ فِي أَرْضٍ أَوْ رَبِّعِ أَوْ حَائِطٍ لَّا يَصْلُحُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يَعْرِضَ عَلَى شَرِيكِهِ فَيَأْخُذَ أَوْ يَدَعَ یعنی شفعہ ہر مشتر کہ جائیداد میں ہے، وہ زمین ہو یا مکان یا باغ ۔ ( پس ) درست نہیں کہ اسے بچے تا وقتیکہ شریک کو اس کا موقع دے خواہ وہ اسے لے یا چھوڑ دے۔ اس تعلق میں یہ بھی سوال اُٹھایا گیا ہے کہ شفیع کو موقع دیئے جانے کے بعد ا گر وہ نہ خریدے تو کیا شفعہ میں اس کا حق قائم رہے گا یا ساقط ہو جائے گا ؟ امام ابو حنیفہ، امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک چونکہ شفعہ کا حق بیع کے بعد پیدا ہوتا ہے؟ بیچ سے پہلے تو اس کی صورت و شکل محض قانونی ہے۔ اگر شفیع قبل از بیچ مشفوعہ جائیداد لینے سے انکار کرتا ہو تو اُس اُس کا یہ انکار قابل اعتبار نہیں کیونکہ شفعہ کا حق بالفعل پیدا نہیں ہوا۔ اس لئے بیچ کے بعد وہ اپنا حق جو قانون شریعت نے اسے دیا ہے، حاصل کرنے کا حق دار ہوگا۔ کیونکہ بیچ کے بعد اس کے لئے شفعہ کا حق واجب ہو چکا ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحہ ۷۳ تا ۷۵ ) یہ فتوی بظاہر مذکورہ بالا دونوں حوالوں کے منشاء کے خلاف ہے۔ لیکن اگر غور کیا جائے تو دونوں فتوے ہی اپنی اپنی جگہ قابل عمل ہیں۔ بعض و ہیں۔ بعض وقت قیمت بڑھانے کی غرض سے ایک خریدار پیدا کیا جاتا ہے۔ پیدا کیا جاتا ہے۔ جس کے ذریعے شفیع سے زیادہ قیمت وصول کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اس صورت میں صحیح قیمت کا اندازہ اسی وقت ہو گا جب بیچ واقع ہو جائے۔ زیر باب روایت سے ظاہر ہے کہ ابو رافع صحابی کو پانچ صد دینار غیر شفیع سے ملنے تھے مگر انہوں نے چار سو دینار پر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو اپنا مکان جو ان کی حویلی میں واقع تھا، دے دیا۔ اگر غیر شفیع وہ مکان پانچ صد دینار پر خرید لیتا تو اس صورت میں بھی ان کا شفعہ سے متعلق حق قائم تھا اور پانچ صد دینار ادا کر کے اسے لینے کے حق دار تھے۔ اس قسم کے احتمالات کے پیش نظر ہو سکتا ہے کہ کوئی شفیع بوجہ زیادتی قیمت تر ڈو میں ہو اور وہ علم رکھنے کے باوجود خاموش رہے اور صحیح قیمت معلوم ہونے پر وہ حق شفعہ سے استفادے کا حقدار ہو۔ عنوانِ باب میں صرف بائع سے متعلق شرعی ذمہ داری کا ذکر کیا گیا ہے۔ حق شفعہ کے ساقط یا ثابت رہنے کا فیصلہ حالات پر موقوف ہے۔ الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ : سَقَب کے معنے قرب و جوار کسی مکان یا زمین کا ملحق و متصل ہونا۔ اس جملہ کے یہ معنے ہیں کہ ملحق مکان یازمین والا ہمسایہ اجنبی کی نسبت جائیداد ملحقہ خریدنے کا زیادہ حقدار ہے۔ فتح الباری جز ۴ صفحه ۵۵۲) (عمدة القاری - کتاب الشفعة شرح بابا، جزء ۱۲ صفحہ۷۲ ) (مسلم، کتاب المساقاة، باب الشفعة) (شرح معانی الآثار ، كتاب الشفعة، باب الشفعة بالجار، جزء۴ صفحه ۱۲۰)