صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 221
صحيح البخاری جلدم ۲۲۱ ۳۵- کتاب السلم نوعیت جنس کی تعیین۔یعنی صراحت سے ان صفات کا بیان ہو جن کی وجہ سے قیمت کم و بیش ہوتی ہو۔مثلاً کپڑا سوتی یا اونی، ہاتھ کا بنا ہوا یا مشین کا، سادہ یا رنگ دار بعض وقت تانے بانے کے دھاگوں کی تعداد تک معین ہوتی ہے جس کے ہونے یا نہ ہونے سے کپڑا مضبوط یا کمزور ہوتا ہے۔(۵) قیمت کی نقد ادائیگی بطور پیشگی۔(۴) نرخ کی تعیین۔( قدرت سلیم۔یعنی جس کے ساتھ سودا کیا جا رہا ہو، وہ جنس مطلوب مہیا کرنے پر قادر ہے۔دھوکا اور قریب کی صورت نہ ہو۔۷) ضرورت حقہ ہو۔جمہور کے نزدیک ان شرائط میں سے کسی ایک شرط کا فقدان بیع سلم کو باطل کر دیتا ہے۔مثلاً اگر جنس مطلوب موجود ہو تو اس کا لینا دینا احکام بیچ کے تحت ہوگا اور اگر جنس موجود نہ ہو اور اس کے لین دین میں مدت غیر معین ہو یا جنس کی مقدار نا معلوم ہو جیسے باغ کا پھل تو بیع سلم باطل ہوگی۔علی ہذا القیاس باقی شرطیں۔اس ضمن میں بداية المجتهد، كتاب السلم، الباب الأول في محله وشروطه بھی دیکھئے۔