صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 222 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 222

صحيح البخاری جلد ۴ ۲۲۲ بالله العالم ٣٦ - كتاب الشفعة ٣٦- كِتَابُ الشُّفْعَةِ 00600000000 شفعہ شرعی اصطلاح میں وہ انتقال جائیداد کا حق ہے جو مشارکت یا قرب و جوار یا استفادہ کی وجہ سے کسی غیر منقولہ جائیداد کے بارے میں کسی شریک یا پڑوسی کا بدرجہ اولیٰ بنتا ہے۔ مثلاً ایک رشتہ دار یا پڑوسی اپنا مکان بیچنا چاہتا ہے تو پہلا حق اس کے رشتہ دار یا پڑوسی کو ہے کہ وہ اسے خریدے۔ شریعت اسلامیہ نے یہ حق معاشرہ کے تعلقات کی صحت و سلامتی کے لیے محفوظ کیا ہے۔ تمدن بشری میں سب سے پہلے یہ حق شارع علیہ الصلوۃ والسلام نے ہی محفوظ کرنے کی ضرورت کو محسوس کیا ہے۔ اس سے قبل رومانی ضابطہ قوانین میں حق شفعہ کا وجود بطور معاہدہ پایا جاتا تھا۔ یعنی جائیداد بیچنے والا بیج نامہ میں تصریح کر دیتا کہ اگر یہ جائیداد بعد کو فروخت کی گئی تو پہلا حق خرید بائع اول یا فلاں شخص کو ہوگا۔ لیکن اسلامی شریعت کی رو سے اپنی جائیداد جس میں کوئی شخص شرکت یا قرب و جوار یا استفادہ کا تعلق رکھتا ہو، اس کی اجازت یا علم کے بغیر فروخت کر دی جائے تو اسے اس جائیداد کو اسی قیمت پر لے لینے کا قانو نا حق حاصل ہوگا جس پر وہ فروخت کی گئی ہو اور خریدار کو اس جائیداد سے محروم ہونا پڑے گا۔ اس کے لئے بائع اور شفیع کو نہ تو کسی سابقہ معاہدے یا سمجھوتے کی ضرورت ہے اور نہ پہلے بیع نامہ میں کسی شرط کی۔ شفیع مشتری کا بیع نامہ ہی ہر لحاظ سے شفیع کا بیع نامہ متصور ہوگا۔ رومانی قانون میں مالک جائیداد شفعہ کا دعوی کرنے والے کو اپنے سابقہ معاہدہ کی بناء پر قبضہ دینے سے انکار کر سکتا ہے جو اس کے اور مشتری کے درمیان پہلے سے قرار پا چکا ہو مگر اسلامی شریعت کی رو سے وہ انکار نہیں کر سکتا؛ کیونکہ ایسا معاہدہ جو شفیع کو اس کے طبعی حق سے محروم کرتا ہے، باطل اور بے اثر ہے۔ بعض ہندو قانون دانوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس قانون کا وجود مسلمانوں کے ہندوستان میں آنے سے پہلے قدیم ہندو قانون میں پایا جاتا تھا مگر ان کی یہ کوشش بے سود ثابت ہوئی ۔ خود ہند و مقننین نے ہی ان کا یہ خیال رڈ کیا ہے۔ اسی کتاب میں حق شفعہ کے تاریخی اور قانونی پس منظر سے متعلق یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ حق شفعہ کی موجودہ شکل وصورت اسلامی فقہ کی مرہونِ منت ہے اور معاشرہ انسانیہ کے تمدنی حقوق کے تحفظ میں اس جہت سے اسلام ہی اس کا پہلا علم بردار ہے۔ فقہائے اسلام نے شفیع کی تین قسمیں بیان کی ہیں۔ شفیع شریک ، شفیع خلیط اور شد خلیط اور شفیع جار ان ابواب میں ان تینوں قسم کے حقوق شفعہ کی وضاحت اور تعین کا ذکر آئے گا۔