صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 220 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 220

صحيح البخاری جلد ۴ ۲۲۰ ۳۵- كتاب السلم بَاب ۸ : السَّلَمُ إِلَى أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ اس وقت تک کے لئے بیع سلم کرنا کہ اونٹنی بچہ جنے ٢٢٥٦ : حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۲۲۵۶ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ جویریہ ( بن اسماء) نے ہمیں خبر دی ۔ انہوں نے نافع رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانُوا يَتَبَايَعُوْنَ ہے، نافع نے حضرت عبداللہ رضی اللہ اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اونٹوں کی خرید و فروخت الْجَزُورَ إِلَى حَبَلِ الْحَبَلَةِ فَنَهَى النَّبِيُّ اس شرط پر کیا کرتے تھے کہ حاملہ اُونٹنی کا بچہ بڑا ہو کر صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ۔ فَسَّرَهُ بچہ جنے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ نَافِعٌ إِلَى أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ مَا فِي بَطْنِهَا ۔ نافع نے حَبَلُ الْحَبَلَةِ کی یہ تفسیر کی ہے کہ اونٹنی وہ بچہ اطرافه: ٢١٤٣، ٣٨٤٣۔ جنے جو اس کے پیٹ میں ہو۔ میعاد تشريح : السَّلَمُ إِلَى أَنْ تُنتج النَّاقَ : مذکورہ بالاعوان سے بھی یہی ثابت کرنا مقصد ہے کہ غیرمعین کے لئے بیع سلم اسی طرح نا جائز ہے جس طرح عام بیع کہ ایسی بیچ از قسم غرر ہے۔ جس کی صریح ممانعت ہے۔ سٹے کا جو دستور آج کل رائج ہے وہ قطعا بیع سلم کی صورت نہیں کہلا سکتا۔ اس میں اول ضروری نہیں کہ جنس فی الواقع موجود ہو۔ دوم سٹے میں در حقیقت روپے سے روپیہ کا سود ٹھہرتا ہے۔ عام طور پر یہ ہوتا ہے، مثلاً فلاں قسم کی روئی منڈی کے موجودہ نرخ پر ایک ہزار من خریدنے کا سمجھوتہ قرار پاتا ہے۔ اگلے دن نرخ بڑھنے پر وہی ایک ہزار من روئی بڑھے ہوئے نرخ پر بیچ دی جاتی ہے، بغیر اس کے کہ ایک ہزار من روئی پر قبضہ ہو اور اگر نرخ گر جائے تو بعض وقت سٹے کے بازار میں بڑے سے بڑا تاجر دیوالیہ ہو جاتا ہے۔ یہ طریق قسمت آزمائی کی صورت ہے اور اسلام نے ہر ایسے کاروبار کو نا جائز قرار دیا ہے جس میں ایک کا نقصان اور دوسرے کا فائدہ ہو۔ قمار یعنی جوئے بازی بھی اسی لئے حرام ہے کہ اس میں فرد اپنی چالا کی اور ہوشیاری سے دوسرے کا مال سمیٹتا اور اُسے تہی دست کر دیتا ہے۔ اس قسم کا کاروبار از قبیل غرر ہے کہ وہ دھوکے اور فریب پر مبنی اور نقصان دہ ہوتا ہے۔ صحت بیع سلم کی جو شرطیں منہ ا جو شرطیں مندرجہ بالا ابواب میں بیان ہوئی ہیں، وہ حسب ذیل ہیں :- (1) ایک معین مقدار میں جنس کی خرید بالفعل مقصود ہو۔ وقت کی تعیین یعنی فلاں وقت میں جنس مطلوب فلاں وقت لے لی جائے گی۔