صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 211 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 211

صحيح البخاری جلد ۴ ۲۱۱ ۳۵- كتاب السلم تحت ہے۔ اسی لئے حضرت ابن عباس نے اس آیت کا اطلاق بیع سلم پر بھی کر کے اسے جائز قرار دیا ہے بحالیکہ اس میں بیع غرر کی صورت بھی ہے کہ نتیجے کا یقینی علم نہیں ، صرف ایک اندازہ اور اُمید ہے۔ لیکن شریعت نے معاملات میں سہولت کے پیش نظر اس کی اجازت دی ہے۔ مثلاً زمیندار کو اپنے زرعی کاروبار کے لئے روپے کی ضرورت ہے اور روپے والے کو اناج کی تو اسے اجازت ہے کہ مشتری سے قبل از فصل نرخ ، وزن اور میعاد معین کر کے روپیہ لے لے۔ ایسے لین دین میں اگر بھاؤ کا فرق ہو جائے تو وہ سود نہیں۔ اس لین دین میں زر مبادلہ بنیاد نہیں بنایا گیا کہ جس سے جنس زیر خرید کی عدم ادائیگی پر زر مبادلہ بھی از ی زیادہ ہو جائے بلکہ وہ واپس ہوگا اور تنازعہ کی صور ر وہ واپس ہوگا اور تنازعہ کی صورت میں قضا فیصلہ کرے گی کہ عدم ادائیگی کے وجوہ معقول ہیں یا غیر معقول۔ دینے والے کو معذور ٹھہرایا جا سکتا ہے یا اس پر حرجانہ ڈالا جا سکتا ہے۔ اجناس حاصل کرنے کی غرض سے قبل از وقت روپیہ دے کر سودا کرنا کہ فلاں وقت فلاں قسم کی جنس معین نرخ پر اور معین وزن میں لی جائے گی ۔ ایسے سودے کو بیع سلم کہتے ہیں جو شرعاً جائز ہے۔ جمہور نے اس بیچ کی صحت کے لئے اَجَلٍ مُّسَمًّى یعنی معین میعاد کی شرط ضروری قرار دی ہے۔ لیکن امام شافعی کے نزدیک صرف مستقبل کے سودے ہی کے لئے نہیں بلکہ حال کے سودے کے لئے بھی بیع سلم ہو سکتی ہے اور اس کی صحت کے لئے یہ بھی ضروری قرار دیا گیا ہے کہ جنس مطلوبہ کی صفت مع قیمت اور مقدار جنس اور وقت کی ادائیگی کی تعیین ضبط تحریر میں لائی جائے۔ ( فتح الباری جزء ۴ صفحه ۵۴۰ تا ۵۴۲ ) (عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحه ۶۱ تا ۶۳ ) (بداية المجتهد، كتاب السلم، الباب الأول في محله و شروطه، جزء ثانی صفحه ۱۵۲،۱۵۱) باب نمبرا اور باب نمبر ۲ میں گیل معلوم اور وزن معلوم کے تعلق میں عبداللہ بن ابی نجیح کی ہی روایت مختلف سندوں سے نقل کی گئی ہے۔ کھیل کے معنے ہیں ماپنا اور وزن کے معنے ہیں تو لنا۔ بعض جگہ ماپ کر بیچنے کا رواج ہے اور بعض جگہ تول کر، دونوں طریق سے مقدار معین ہو جاتی ہے۔ باب کی روایت نمبر ۲۲۴۰ میں کھیل کے علاوہ الفاظ إِلى اَجَلٍ مَّعْلُومٍ بھی مروی ہیں۔ یعنی بیع سلم میں مدت مقررہ بھی شرط ہے۔ اس روایت کی تائید میں روایت نمبر ۲۲۴۱ بھی نقل کی گئی ہے۔ باب کی پہلی روایت میں بھی الْعَامَ وَالْعَامَيْنِ کے الفاظ سے مدت کا ذکر موجود ہے۔ ان روایتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ بیع سلم میں وزن ، ماپ اور مدت معین ہو۔ بَاب : السَّلَمُ إِلَى مَنْ لَّيْسَ عِنْدَهُ أَصْلٌ ایسے شخص سے بیع سلم کرنا جس کے پاس اصل جنس نہیں ٢٢٤٤ - ٢٢٤٥ : حَدَّثَنَا مُوسَى ۲۲۴۴- ۲۲۴۵: موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے ابْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا بیان کیا کہ عبد الواحد ( بن زیاد ) نے ہمیں بتایا ، ( کہا