صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 210
صحيح البخاری جلد ۴ ۲۱۰ ۳۵ - كتاب السلم ٢٢٤٢-٢٢٤٣ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ۲۲۴۲-۲۲۴۳: ابوالولید نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ ابْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ۔ (کہا) کہ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ ابن ابی المجالد سے مروی ہے۔ (دوسری اسناد ) وَحَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ نيزكي ( بن موسیٰ ) نے ہم سے بیان کیا، (کہا) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ۔ کہ ہمیں وکیع نے بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، انہوں نے محمد بن ابی مجالد سے روایت کی ۔ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ أَوْ عَبْدُ اللهِ بنایا، کہا کہ محمد بن ابی المجالد ) نے مجھے خبر دی یا یہ کہا ابْنُ أَبِي الْمُجَالِدِ قَالَ اخْتَلَفَ عَبْدُ اللهِ کہ عبد الله بن ابی المجالد نے مجھے خبر دی، کہا کہ عبداللہ ابْنُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ وَأَبُو بُرْدَةَ فِي بن شداد بن ہاد اور ابو بردہ ( عامر بن ابی موسیٰ ) نے السَّلَفِ فَبَعَثُونِي إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى سلم کے بارے میں اختلاف کیا تو لوگوں نے مجھے رَضِيَ اللهُ عَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ إِنَّا كُنَّا نُسْلِفُ حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کے پاس عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بھیجا۔ میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت !! اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ کے زمانہ میں گندم اور جو او منلی او کھجوروں کی بیچ سلم سی وَالزَّبِيْبِ وَالتَّمْرِ وَسَأَلْتُ ابْنَ أَبْزَی کیا کرتے تھے۔ اور میں نے (حضرت عبدالرحمن ) فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ۔ اطرافه: ٢٢٤٤-٢٢٤٥، ٢٢٥٤-٢٢٥٥۔ بن ابزی سے پوچھا تو انہوں نے بھی ایسا ہی کہا۔ تشریح : السَّلَمُ فِي كَيْلٍ مَّعْلُومٍ: سلم کے معنے پر کرنا۔ سلف کے معنے دیگی دیا۔ سلم اور سلف دونوں اصطلاحیں بیع سلم کے معنوں میں ! میں استعمال ہوتی ہیں ۔ پہلی اصطلاح اہل حجاز کی ہے اور دوسہ دوسری اہل عراق کی اور ان دونوں اصطلاحوں کا استعمال صرف اعتباری ہے۔ یعنی قبل از وقت عقد بیع کے لحاظ سے اس بیچ کو سلف کہتے ہیں اور کسی شئی کی خرید کے لئے پیشگی رقم دینے کے لحاظ سے اسے بیع سلم کہیں گے۔ اور یہ مبادلہ اشیاء میں اُدھار کی صورت ہے۔ اسے دین بھی کہہ سکتے ہیں جس میں بدل تو نقد رقم کی شکل میں دیا جاتا ہے مگر اس کے مبادلہ کی جنس بعد میں دی جاتی ہے اور یہ بیع سلم یا سلف ارشاد باری تعالٰى يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنِ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى * کے ترجمہ: اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم ایک معین مدت تک کے لیے قرض کا لین دین کرو۔۔۔ } (البقرة: ۲۸۳)