صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 205 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 205

صحيح البخاری جلد ۴ ۲۰۵ ۳۴- كتاب البيوع صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ وَهُوَ رَسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ فتح کے سال بِمَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فرما رہے تھے جبکہ آپ مکہ میں تھے کہ اللہ اور اس حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ وَالْخِنْزِيْرِ کے رسول نے شراب اور مردار اور خنزیر اور بتوں کی وَالْأَصْنَامِ فَقِيْلَ يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ خرید و فروخت حرام قرار دی ہے۔آپ سے کہا گیا: شُحُوْمَ الْمَيْتَةِ فَإِنَّهُ يُطْلَى بِهَا السُّفُنُ یا رسول اللہ ! مردار کی چربیوں کی بابت بھی آپ بتائیں کیونکہ وہ کشتیوں میں ملی جاتی ہیں اور کھالوں پر بھی وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُوْدُ وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا ان کا روغن ملا جاتا ہے اور لوگ ان سے روشنی حاصل النَّاسُ فَقَالَ لَا، هُوَ حَرَامٌ۔ثُمَّ قَالَ کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا نہیں ، وہ حرام ہے۔پھر رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا: اللہ یہود ذَلِكَ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ إِنَّ اللهَ لَمَّا حَرَّمَ کو تباہ کرے کہ اللہ نے مردار کی چر بیاں (ان کے لئے ) اللہ شُحُومَهَا جَمَلُوْهُ ثُمَّ بَاعُوْهُ فَأَكَلُوا حرام کی تھیں مگر انہوں نے انہیں پگھلایا اور پھر بیچا اور ثَمَنَهُ۔وَقَالَ أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ان کی قیمت کھائی۔ابو عاصم (ضحاک بن مخلد ) نے عَطَاء سَمِعْتُ کہا: عبدالحمید نے ہم سے بیان کیا۔یزید نے ہمیں حَدَّثَنَا يَزِيْدُ كَتَبَ إِلَيَّ بتایا کہ عطا ( بن ابی رباح) نے مجھے لکھا کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے یہ سنا۔انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔جَابِرًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔اطرافه: ٤٢٩٦، ٤٦٣٣۔تشریح : بَيْعُ الْمَيْتَةِ وَالْأَصْنَام: مام معنونہ ے تعلق میں باب ۱۰۱تا۱۰۳ بھی دیکھئے جمہور کے نزدیک مذکورہ بالا اشیاء کی بیع حرام ہے لیکن مردار کی چربی کا استعمال ناجائز نہیں کہ وہ صابون سازی وغیرہ صنعت میں استعمال کی جاسکتی ہے۔امام اوزاعی، امام ابو یوسف اور بعض مالکیوں نے خنزیر کے بالوں کا استعمال بھی جائز قرار دیا ہے۔اسی طرح ان کی خرید و فروخت بھی۔علماء کے اختلاف سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک یہ حرمت کراہیت ہے نہ حرمت تحریم۔(فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ ۵۳۷ ) (عمدۃ القاری جزء ۲ صفحه ۵۶،۵۵) جہاں تک ارشاد نبوی کے الفاظ کا تعلق ہے، ادب کا تقاضا ہے کہ مسلمان ایسے پیشے اختیار کرنے سے بچیں۔روایت نمبر ۲۲۳۶ سے ظاہر ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مردار کی چربی کے کارآمد ہونے کی طرف توجہ دلائی گئی تو آپ نے اس سے انکار نہیں کیا بلکہ یہود کی مثال دے کر بیچ کی حرمت کا اعادہ فرمایا کہ انہوں نے صریح حکم کی نافرمانی کی