صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 204 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 204

صحيح البخاری جلد ۴ م ۴۳۰ ۳۴- كتاب البيوع مَا دُونَ الْفَرْج: اس سے مراد و بر نہیں جو کسی صورت میں بھی جائز نہیں، نہ بیوی سے نہ لونڈی سے۔جیسا کہ ارشاد باری تعالٰى فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ ) (المؤمنون:۸) سے واضح ہے۔غیر فطرتی طریق قطعی طور پر ہر حالت میں حرام ہے۔فَإِذَا تَطَهَّرُنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ) (البقرۃ:۲۲۳) یعنی جب حیض سے نہا دھو کر پورے طور پر پاک وصاف ہو جائیں تو جہاں سے اللہ نے حکم دیا ہے، ان کے پاس آؤ۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت رکھتا ہے جو بار بار اس کی طرف رجوع کرتے ہیں، جو اپنی پاکیزگی کا انتہائی حد تک اہتمام کرنے والے ہیں۔اس تعلق میں کتاب الإيمان باب۳۹، کتاب الحيض باب۱۳ بھی دیکھئے۔مسئلہ معنونہ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث واضح اور بطور حکم قطعی ہے۔جس کے یہ الفاظ ہیں : لَا تُوْطَأَ حَامِلٌ حَتَّى تَضَعَ وَلَا غَيْرُ ذَاتِ حَمْلٍ حَتَّى تَحِيْضَ حَيْضَةً یعنی حاملہ سے تاوقتیکہ وہ جنے اور غیر حاملہ سے تاوقتیکہ وہ حیض سے فارغ ہو، جماع نہ کیا جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صریح ارشاد کا اعلان حضرت ابو سعید خدری نے اس وقت کیا، جب غزوہ اوطاس میں قیدی لائے گئے۔جن میں عورتیں بھی تھیں اور وہ بطور جنگی قیدی غازیوں میں تقسیم کی گئی تھیں۔انہوں نے حکما صحابہ کو منع کر دیا کہ ان دونوں حالتوں میں ازدواجی تعلقات قائم نہ کئے جائیں۔( فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ ۵۳۵) محمد بن سیرین کے محولہ بالا فتویٰ پر زہری نخعی، امام مالک، امام ابو حنیفہ و امام شافعی وغیرہ کا اتفاق ہے۔ان کا فتویٰ ان الفاظ میں ہے : لَا يُقَبلُهَا وَلَا يَتَلَذَّذُ مِنْهَا بِشَيْءٍ۔(عمدة القارى جزء ۲ صفحه ۵۴) یعنی نہ اسے بوسہ دے اور نہ اس سے کسی طریق سے لذت حاصل کرے۔جن فقہاء نے تقبیل اور مطلق مباشرت کی اجازت دی ہے، انہوں نے ظاہری الفاظ سے تمسک کیا ہے کہ صرف جماع سے منع کیا گیا ہے۔دراصل فتوئی اور تقویٰ میں فرق ہے۔اس بارہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہی درحقیقت قابل اتباع ہے۔بَاب ۱۱۲ : بَيْعُ الْمَيْتَةِ وَالْأَصْنَامِ مردار اور بتوں کا بیچنا ٢٢٣٦ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ :۲۲۳۶: قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ لیث ( بن سعد ) عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيْبِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے، یزید أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ نے عطاء بن ابی رباح سے، عطاء نے حضرت جابر اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللهِ بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے رَضِيَ (ابوداؤد، کتاب النكاح، باب في وطأ السبايا)