صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 203
صحيح البخاري - جلد ۴ ۲۰۳ ۳۴- كتاب البيوع نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے متعلق یہی احتیاط فرمائی۔ پہلے ان کو آزاد کر دیا اور پھر نکاح کے بعد انہیں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرایا۔ جیسا کہ مسلم کی روایت میں اس امر کی تصریح ہے۔ اور پھر آپ نے سفر جاری رکھا؟ یہاں تک کہ جب وہ حیض سے فارغ ہوئیں، تب ان کا رخصتا نہ ہوا۔ (مسلم، كتاب النكاح، باب فضيلة إعتاقه أمته ثم يتزوجها ) جہاں تک اصل مسئلہ کا تعلق ہے، وہ اسی حد تک ہے۔ مگر بعض فقہاء کے فتووں کے پیش نظر عنوان باب ھل سے قائم کر کے اس مسئلہ کو استفتاء کی شکل دی گئی ہے اور اس کا جواب نظر انداز ہے۔ سفر میں لے جانا یا نہ لے جانا غیر متعلقہ باتیں ہیں۔ غالباً سفر سے حالت جنگ یا اضطرار کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ ایسی حالت میں بھی احکام شریعت کی پابندی کرنا ضروری ہے۔ جیسا کہ مندرجہ روایت سے ظاہر ہے۔ علامہ ابن حجر کا خیال ہے کہ سفر میں زر خرید لونڈی کو بغیر استبراء ساتھ رکھنے میں ابتلاء کا احتمال ہے۔ اس لئے عنوانِ باب میں یہ امر نمایاں کر کے ۔ مسئلہ بصیغہ استفتاء رکھا گیا ہے۔ حوالہ جات کی تفصیل کیلئے دیکھئے : فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ ۵۳۴، ۵۳۵ - عمدۃ القاری جز ۱۲۰ صفحه ۵۱ تا ۵۲۔ وَلَمْ يَرَ الْحَسَنُ بَأْسًا أَنْ يُقَبِّلَهَا أَوْ يُبَاشِرَهَا : حسن بصری کے حوالے سے ظاہر ہے کہ مباشرت سے مراد مطلق معانقہ ہے جو تقبیل کی نسبت عام ہے۔ ابن ابی شیبہ نے ان کا یہ فتوی نقل کیا ہے۔ جس کے خلاف محمد بن سیرین کا فتوی ہے کہ تقبیل یا مباشرت دونوں باتیں مکروہ ہیں۔ یہ فتوی بھی ابن ابی شیبہ سے ہی منقول ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھئے عمدۃ القاری جزء ۱۲۰ صفحہ ۵۱ - الْوَلِيدَةُ الَّتِي تُوْطَاً ۔۔۔ فَلْيُسْتَبْرَأَ رَحِمُهَا : حضرت عبداللہ بن عمر کا فتوی بھی ابن ابی شیبہ نے نقل کیا ہے اور کنواری کے بارے میں جو فتویٰ منقول ہے (یعنی وَلَا تُسْتَبْرَأُ الْعَذْرَاءُ) وہ عبد الرزاق سے مروی ہے کے لَا بَأْسَ أَنْ يُصِيبَ مِنْ جَارِيَتِهِ الْحَامِلِ مَا دُونَ الْفَرْج: عطاء بن ابی رباح کا یہ جو فتویٰ تقبيل مباشرت کے جواز میں ہے، اس کا استنباط انہوں نے آیت إِلَّا عَلَى اَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ سے کیا ہے۔ محولہ آیتیں یہ ہیں : وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ ) (المؤمنون : ۶ تا ۸) اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ، سوائے اپنی بیویوں کے یا جن کے مالک ان کے داہنے ہاتھ ہوئے ہیں۔ پس ایسے لوگ قابل ملامت نہیں ۔ مگر جو اس کے سوا کسی اور بات کی خواہش کریں تو وہ لوگ حد سے گزرنے والے ہیں ۔ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ : جنگ میں حاصل کرنے کی وجہ سے قبضہ میں آنے والی عورتیں جو نہ خود آزاد ہوئیں اور نہ انہیں دوسرے لوگوں نے آزاد کرایا۔ ان کی حیثیت لونڈی کی سی ہوگی۔ (مصنف ابن ابی شیبه، كتاب النكاح، باب فى الرجل يشتري الأمة يصيب منها شيئا دون الفرج، جزء ۳ صفحه ۵۱۶) (مصنف ابن ابی شیبه، كتاب النكاح، باب من كان يقول يستبرئ الأمة بحيضة، جزء ۳ صفحه ۵۱۴) (مصنف عبد الرزاق، كتاب الطلاق، ابواب ما يتعلق بالعبيد والإماء، باب الأمة العذراء تباع، جزءے صفحہ ۲۲۷) (مصنف ابن ابی شیبه، كتاب النكاح، باب في الرجل يشترى الجارية العذراء يستبرئها، جزء ۳ صفحه ۵۱۳)