صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 202 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 202

صحيح البخاری جلد ۴ ۳۴- كتاب البيوع النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ فَلَمَّا خیبر میں آئے ، جب اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے فَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ الْحِصْنَ ذُكِرَ لَهُ جَمَالُ قلعہ فتح کر دیا تو صفیہ بنت حي بن اخطب کی صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيَ بْنِ أَخْطَبَ وَقَدْ قُتِلَ خوبصورتی کا ذکر آپ سے کیا گیا اور ان کا خاوند قتل زَوْجُهَا وَكَانَتْ عَرُوسًا فَاصْطَفَاهَا ہو چکا تھا اور وہ دلہن ہی تھیں۔تو رسول اللہ صلی اللہ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلیہ وسلم نے انہیں اپنے لئے چن لیا اور آپ انہیں لے کر نکلے، یہاں تک کہ ہم سد الروحاء میں پہنچے تو وہ لِنَفْسِهِ فَخَرَجَ بِهَا حَتَّى بَلَغْنَا سَدَّ الرَّوْحَاءِ حیض سے فارغ ہوئیں اور وہاں ان کا رخصتا نہ ہوا۔حَلَّتْ فَبَنَى بِهَا ثُمَّ صَنَعَ حَيْسًا فِي پھر حیس (طعام ) تیار کروایا اور چھوٹے سے دستر خوان نِطَعِ صَغِيْرٍ ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ پر رکھوایا۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آذِنْ مَنْ حَوْلَكَ تمہارے آس پاس ہوں، ان کو اطلاع کردو کہ وہ فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيْمَةَ رَسُوْلِ اللَّهِ آجائیں۔یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا جو صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَفِيَّةَ حضرت صفیہ ( کی شادی) کے موقع پر ہوا۔پھر ہم ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ قَالَ فَرَأَيْتُ مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔(حضرت انس نے) رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ يُحَوِّي لَهَا وَرَاءَهُ بِعَبَاءَةٍ ثُمَّ يَجْلِسُ عباء سے اُن ( حضرت صفیہ ) کے لئے اپنے پیچھے گڈا عِنْدَ بَعِيْرِهِ فَيَضَعُ رُكْبَتَهُ فَتَضَعُ صَفِيَّةُ بنا دیتے تھے اور پھر اونٹ کے قریب بیٹھتے اور اپنا گھٹنا نیچے رکھتے اور حضرت صفیہ اپنا پاؤں آپ کے گھٹنے پر رِجْلَهَا عَلَى رُكْبَتِهِ حَتَّى تَرْكَبَ۔رکھ کر سوار ہو جاتیں۔اطرافه: ۳۷۱، ٦١٠، ٩٤٧، ۲۲۲۸، ۲۸۸۹، ۲۸۹۳، ۲۹٤۳ ، ٢٩٤٤ ، ٢٩٤٥، ٢٩٩١، ٣٠٨٥، ٣٠٨٦، ،٤، ٤٢٠١، ٤٢١١۲۰۰ ،٤۱۹۹ ،٤۱۹۸ ،٣٣٦٧، ٣٦٤٧، ٤٠٨٣، ٤٠٨٤ ٤١٩٧ -٥٥، ٥٩٦٨، ٦٣٦٣،٦١٨٥۲۸، ٥، ٥٤٢٥۳۸۷، ٤٢١٢ ، ٤٢١٣، ٥٠٨٥ ٥١٥٩ ٥١٦٩ شریح هَلْ يُسَافِرُ بِالْجَارِيَةِ قَبْلَ أَنْ يَسْتَبُرِئَهَا: اِسْتِبُرَاء کے معنے تسلی کر لینا کہ عورت حاملہ تو نہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحہ ۵۱) یہ برگی سے باب استفعال ہے اور یہ اطمینان چند علامتوں سے کیا جاسکتا ہے، جس میں حیض کا آنا بھی ہے۔لونڈی خریدنے سے پہلے ضروری ہے کہ اس کے حاملہ ہونے کے بارے میں تسلی کی جائے اور پھر اس کے بعد اس سے مباشرت کرنے یا نہ کرنے کا سوال پیدا ہو گا، تا کہ نسل مشتبہ نہ ہو۔آنحضرت عالی