صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 200 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 200

صحيح البخاری جلدم ۲۰۰ ۳۴- كتاب البيوع تشریح : بَيْعُ الْمُدَبَّرِ : مُدَبَّرٌ دَبَّرَ سے اسم مفعول ہے جو دہر سے مشتق ہے۔تدبیر کے معنے مابعد کے انجام پر نظر کرنا، غور کرنا اور مُدَبَّر وہ غلام یا لونڈی ہے جسے مالک اپنی موت کے بعد آزاد قرار دے دے۔مالک متوفی کے ورثاء کے لئے جائز نہیں کہ مدبر کو فروخت کریں یا اس کی آزادی منسوخ کریں، بجز اس کے کہ آزاد کرنے والا مقروض ہو تو غلام کی آزادی قرض کی حالت میں کالعدم ہوگی اور اس کا قرضہ ادا کرنے کی غرض سے مدبر فروخت کیا جا سکتا ہے یا اس سے خدمت لی جاسکتی ہے؛ تا وقتیکہ اس کی کمائی سے وہ قرض ادا ہو جائے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض ادا کرنے کے لئے مدبر کو فروخت کیا۔مقروض کے غلام یا لونڈی کا آزاد کرنا درست نہیں ، جب تک کہ اس کا قرضہ ادانہ کر دیا جائے۔(فتح الباری جز ۴ صفحه ۵۳۱ ) (عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحه ۴۹) صلى الله روایت نمبر ۲۲۳۰، امام احمد بن حنبل اور ابن ماجہ نے بھی اسی طرح نقل کی ہے لیکن اسماعیلی کی روایت میں بایں الفاظ صراحت ہے : فِي رَجُلٍ اعْتَقَ غُلَامًا لَّهُ عَنْ دُبُرٍ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَبَاعَهُ رَسُوْلُ اللَّهِ ﷺ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرُهم - ایک شخص نے اپنے غلام کو اپنی موت کے بعد آزاد قرار دیا؛ بحالیکہ اس کے ذمہ قرض تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ غلام آٹھ سو درہم پر بیچ دیا۔( تفصیل کے لیے دیکھئے فتح الباری جز ۴۰ صفحہ ۵۳۱) امام بخاری نے کتاب الأحكام باب ۳۲ میں یہ روایت بجائے وکیچ کے محمد بن بشر سے نقل کی ہے۔(دیکھئے روایت نمبر ۶ ۷۱۸ ) یہی روایت نمبر ۲۱۴۱ میں بھی گذر چکی ہے۔نیز اس کے لیے کتاب العتق روایت نمبر ۲۵۳۴ بھی دیکھئے۔الأمة تَزْنِي وَلَمْ تُحْصَنُ : روایت نمبر ۲۲۳۲ تا ۲۲۳۴ میں لونڈی بیچنے کا ذکر ہے، قطع نظر اس سے کہ وہ مُدَبَّر ہو یا غیر مُدَبَّر۔اگر اس کی اصلاح نہیں ہوئی تو ایسی لونڈی اپنے پاس رکھنا جائز نہیں۔اسی طرح غلام بھی بوجہ زنا بیچا جاسکتا ہے۔(اس بارہ میں دیکھئے کتاب البیوع باب (۶۶) روایت نمبر ۲۲۳۲-۲۲۳۳ میں فقرہ وَلَمْ تُحْصَنُ کا مفہوم یہ ہے کہ غیر منکوحہ لونڈی زنا کرے تو اُسے سزا دی جائے۔اس کے یہ معنے نہیں کہ منکوحہ لونڈی کو اگر وہ زنا کا ارتکاب کرے سزا نہ دی جائے ؛ بلکہ نص صریح کے بموجب وہ بھی قابل سزا ہے۔یہی غلط فہمی دور کرنے کے لئے روایت نمبر ۲۲۳۴ لائی گئی ہے؛ جس میں یہ قید نہیں بلکہ مطلق لونڈی کا ذکر ہے خواہ وہ منکوحہ ہو یا غیر منکوحہ۔بعض شارحین کے نزدیک ان روایتوں کا تعلق سابقہ باب سے ہے۔چنانچہ ابن بطال نے انہیں سابقہ باب ( نمبر ۱۰۹) میں شامل کیا ہے مگر کرمانی نے اسی باب ( نمبر ۱۱۰) کا حصہ سمجھتے ہوئے یہ توجیہہ کی ہے کہ مدبر لونڈی بھی زانیہ ہوسکتی ہے اور غیر مُدَبَّر بھی۔دونوں صورتوں میں فروخت کر دی جائے۔اسی وجہ سے یہ روایتیں اکٹھی زمیر باب درج کی گئی ہیں۔مگر اس تو جیہہ کے پیش نظر سابقہ باب ( نمبر ۱۰۹) میں ان کا شامل کرنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔جیسا کہ عینی کی رائے ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۲ صفحہ ۵۰) لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو باب سے مناسبت واضح ہو جائے گی۔بدکاری کی وجہ سے لونڈی فروخت کرنے کا ارشاد ہے۔کیونکہ اس کا سبب خود لونڈی کا فعل ہے۔مگر غلام کی فروختگی کا سبب اس کا مالک ہے کہ وہ مقروض ہے۔قرض کی ادائیگی کے لئے وہ فروخت کیا گیا۔دونوں صورتیں جائز ہیں۔ابن ماجه ، كتاب الأحكام، باب المدبر) (مسند احمد بن حنبل جز ۳۰ صفحه ۳۰۱)