صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 198
صحيح البخاری جلد ۴ ۱۹۸ ۳۴- كتاب البيوع أَنْ لَّا تَفْعَلُوْا ذَلِكُمْ فَإِنَّهَا لَيْسَتْ نَسَمَةٌ آپؐ نے فرمایا: کیا تم ایسا کرتے ہو ایسا نہ کرنا۔ كَتَبَ اللَّهُ أَنْ تَخْرُجَ إِلَّا هِيَ خَارِجَةٌ اگرچہ تم پر ضروری نہیں مگر دراصل بات یہ ہے کہ جس جان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہے کہ وہ پیدا ہو تو وہ ضرور ہی پیدا ہوگی۔ اطرافه ٢٥٤٢ ، ٤١٣٨، ٥٢١٠، 6603، 7409۔ تشریح : بيع الرقيق: روایت نمبر ۱۲۲۹ روایت نمبر ۲۲۲۹ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو سعید خدری نے عزل کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا ہے مگر ایسا نہیں بلکہ ان کی موجودگی میں دوسرے شخص نے اس بارے میں فتوی پوچھا تھا ؟ جیسا کہ کتاب القدر، روایت نمبر ۶۶۰۳ میں اس امر کی صراحت ہے۔ اس روایت سے غلام، لونڈی کی فروخت کے جواز کی نسبت استدلال کیا گیا ہے۔ بَاب ۱۱۰ : بَيْعُ الْمُدَبَّرِ ایسے غلام اور لونڈی کا بیچنا جسے مالک نے اپنے مرنے کے بعد آزاد قرار دے دینے کا فیصلہ کر لیا ہو ۲۲۳۰: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ۲۲۳۰ : (محمد بن عبداللہ ) بن نمیر نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ کر وکیع نے ہمیں بتایا۔ اسماعیل ( بن ابی خالد ) نے ہم عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سے بیان کیا۔ انہوں نے سلمہ بن کہیں سے مسلمہ نے عطاء سے، عطاء نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے قَالَ بَاعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُدَبَّرَ۔ روایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( قرضہ ادا کرنے کی غرض سے ) ایسے غلام کو بیچا، جسے موت کے بعد آزاد قرار دینے کا فیصلہ کر دیا گیا تھا۔ اطرافه ۲۲۳۱،۲١٤١ ، ٢٤۰۳ ، ٢٤١٥، ٢٥٣٤، ٢٧١٦، ٦٩٤٧، ٧١٨٦۔ ۲۲۳۱ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ۲۲۳۱ : قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان ( بن عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ عیینہ) نے ہمیں بتایا کہ عمرو ( بن دینار ) سے مروی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُوْلُ بَاعَهُ رَسُوْلُ اللهِ ہے کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ اُسے (یعنی مد بر غلام کو ) بیچا۔ اطرافه: ٢١٤١، ۲۲۳۰ ، ۲۴۰۳ ، ٢٤١٥، ٢٥٣٤، ٢٧١٦، ٦٩٤٧، ٧١٨٦۔