صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 196 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 196

صحيح البخاری جلد ۴ ۱۹۶ ۳۴- كتاب البيوع نَسِيْئَةً وَدِرْهَمْ بِدِرْهَم } بدلے میں اُدھار پر خریدا جائے اور ایک درہم ایک درہم کے بدلہ میں ۔} ۲۲۲۸ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ :۲۲۲۸ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ثابت سے، أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ فِي السَّبْيِ ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ صَفِيَّةً فَصَارَتْ إِلَى دِحْيَةَ الْكَلْبِي ثُمَّ انہوں نے کہا کہ جنگی قیدیوں میں حضرت رت صفیہ بھی تھیں جو حضرت دحیہ کلبی کے حصے میں آئیں۔ پھر نبی صَارَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ صلی اللہ علیہ وسلم کو مل گئیں۔ اطرافه: ۳۷۱ ، ٦۱۰ ، ۹٤٧، ۲۲۳۵، ۲۸۸۹ ، ۲۸۹۳، ٢٩٤٣، ٢٩٤٤، ٢٩٤٥، ٢٩٩١، ،٣٠٨٥، ٣٠٨٦ ٣٣٦٧، ٣٦٤٧ ٤٠٨٣، ٤٠٨٤ ، ٤١٩٧ ، ١٩٨، ٤١٩٩ ٤، ٤٢١١ ، ٤٢١٢ ، ٤٢١٣، ٥٠٨٥، ٥١٥٩، ٥١٦، ٥٣٨٧۲۰۱ ،۲۰۰ ٥٤٢٥، ٥٥٢٨، ٥٩٦٨، ٦١٨٥، ٦٣٦٣ تشريح : بَيْعُ الْعَبْدِ وَالْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً: لفظ العبد غلام، لونڈی دونوں پر اطلاق پاتا ہے۔ جو روایت زیر باب یر باب نقل کی گئی ہے، اس کا تعلق حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ سے ہے۔ یہ بطور جنگی قیدی حضرت دحیہ کلبی کے حصے میں آئی تھیں۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ یہ سردار یہود کی بیٹی ہے اور اس کا خاوند بھی سردار تھا جو جنگ میں مارا گیا تو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپؐ نے معاوضہ دے کر انہیں آزاد کرایا۔ بعض س روایتوں میں ہے کہ حضرت دحیہ کلبی کو دوسری لونڈی دی گئی۔ دونوں صورتوں میں میں ۔ مسئلہ کا جواز ثابت ہے اور یہی جمہور کا مذہب ہے۔ امام مالک نے اس قسم کے مبادلہ میں یہ شرط عائد کی ہے کہ جنس زیر مبادلہ مختلف ہو، ورنہ اس میں سود کی صورت پائی جائے گی ۔ امام بخاری جمہور کے مذہب کی تائید میں ہیں۔ (دیکھئے عمدۃ القاری جزء ۱۲۰ صفحہ ۴۴ ، ۴۷) وَاشْتَرَى ابْنُ عُمَرَ رَاحِلَةً بِاَرْبَعَةِ اَبْعِرَةٍ مَّضْمُونَةٍ ۔۔۔۔۔۔ عنوان باب میں کئی حوالے دیئے گئے ہیں، جن سے اس مذہب کی تائید ہوتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا واقعہ طحاوی نے بھی نقل کیا ہے نیز ایک اور روایت حضرت عبداللہ بن عمرو سے ہے کہ آنحضرت ﷺ نے انہیں ایک فوج تیار کرنے ۔ تیار کرنے کے لئے فرمایا اور اجازت دی کہ اچھی قسم کے اُونٹ دو اونٹوں کے عوض میں خرید لئے جائیں۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا ہے امام بخاری نے اس تعلق میں پانچ لے دئے ہیں۔ پہلا حوالہ یہی حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا ہے جسے امام مالک نے موصولاً نقل کیا ہے ۔ عُمُونَةٍ صفتہ حوالے دئے ہا صلى الله ہے رَاحِلَةً کی، یعنی سواری کی اونٹنی ؛ ربذہ مقام پر پہنچائے ۔ ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحه ۵۲۹) (ابوداؤد، كتاب البيوع، باب في الرخصة في الحيوان بالحيوان نسيئة) مؤطا امام مالک، کتاب البیوع، باب ما يجوز من بيع الحيوان بعضه ببعض والسلف فيه)