صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 195 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 195

صحيح البخاری جلد ۴ ۱۹۵ ۳۴- كتاب البيوع 33 صلى الله تشريح : أَمْرُ النَّبِي عَ الْيَهُودَ بِبَيْعِ أَرَضِيهِمْ حِيْنَ أَجَلَاهُمُ: بخاری کے بعض نسخوں میں nemen یہ باب محذوف ہے اور جن میں موجود ہے، ان کے عنوان ہی میں سعید مقبری کی اس روایت کا حوالہ دینے پر اکتفاء کیا گیا ہے جو کتاب الجزية، باب ۶ روایت نمبر ۳۱۶۷ میں منقول ہے۔ اس روایت میں مذکور ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہود کی جلا وطنی کا فیصلہ فرمایا تو انہیں اجازت دی گئی کہ وہ جائیداد منقولہ فروخت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے غداری اور عہد شکنی کر کے مختلف مواقع پر مسلمانوں کی جانوں، مالوں اور اور عزتوں کو شدید خ کو شدید خطرے میں ڈال دیا تھا۔ اس لئے انہیں سزا دی گئی۔ (عمدۃ القاری جز ۱۲۰ صفحہ ۴۳) غداری ، بد عہدی کا جرم اس نوعیت کا جرم ہے کہ جس کی سزا دنیا میں ملنی چاہیے، تا نظام امن برقرار رہے۔ اسی قسم کے جرائم میں سے آزاد کی خرید وفروخت اور مزدوری کی عدم ادائیگی ہے۔ حدیث قدس آنا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ( روایت نمبر ۲۲۲۷) سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ حقوق العباد تلف کرنے پر ان کی سزا دنیا میں نہ دی جائے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود یہود کو بد عہدی اور غداری کی سزا دی ہے۔ یہ مضمون ہے اس باب کا اور اس سے اس کا تسلسل سابقہ باب سے واضح ہے۔ اسی بَاب ۱۰۸ : بَيْعُ الْعَبْدِ وَالْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيْئَةً غلاموں کی بیع اور حیوان کے بدلے حیوان کی اُدھار پر خرید و فروخت وَاشْتَرَى ابْنُ عُمَرَ رَاحِلَةً بِأَرْبَعَةِ اور حضرت ابن عمرؓ نے ایک سواری کی اونٹنی چار اونٹوں أَبْعِرَةٍ مَّضْمُونَةٍ عَلَيْهِ يُوَفِّيْهَا صَاحِبِهَا کے بدلے خریدی جس کے لئے یہ ضمانت تھی کہ اس کا بِالرَّبَذَةِ۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَدْ يَكُوْنُ مالک اسے ربذہ مقام پر پہنچا کر سپرد کرے گا۔ اور حضرت ابن عباس نے کہا کہ کبھی ایک اونٹ دو اونٹوں سے بہتر الْبَعِيرُ خَيْرًا مِّنَ الْبَعِيْرَيْنِ۔ وَاشْتَرَى ہوتا ہے۔ اور حضرت رافع بن خدیج نے دو اونٹوں کے رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ بَعِيْرًا بِبَعِيْرَيْنِ فَأَعْطَاهُ بدلے ایک اُونٹ خریدا اور ان میں سے ایک اسے أَحَدَهُمَا وَقَالَ آتِيكَ بِالْآخَرِ غَدًا دے دیا اور کہا کہ دوسرا تیرے پاس کل لاؤں گا۔ رَهْوًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ۔ وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ انشاء اللہ دیر نہ ہوگی۔ اور ابن مسیب نے کہا: حیوانوں لَا رِبَا فِي الْحَيَوَانِ الْبَعِيرُ بِالْبَعِيرَيْنِ کے مبادلے میں سود نہیں ۔ ایک اونٹ دو اونٹوں کے بدلے اور ایک بکری دو بکریوں کے بدلے مقررہ میعاد ☆ وَالشَّاةُ بِالشَّاتَيْنِ إِلَى أَجَلٍ ۔ { وَقَالَ تک کے لئے دیئے جاسکتے ہیں۔ اور ابن سیرین ابْنُ سِيْرِيْنَ لَا بَأْسَ بَعِيْرٌ بِبَعِيْرَيْنِ نے کہا: کوئی مانع نہیں کہ ایک اونٹ دو اونٹوں کے حمد ابن سیرین کے قول کے یہ الفاظ عمدۃ القاری کے مطابق ہیں۔ (عمدۃ القاری جزء ۲۰ صفحہ ۴۶)