صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 192 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 192

صحيح البخاری جلد ۴ ١٩٢ ۳۴- كتاب البيوع تشريح بَيْعُ التَّصَاوِيرِ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا رُوْحٌ وَمَا يُكْرَهُ مِنْ ذَلِكَ : زیر باب روایت کے راوی سعید بن ابی الحسن ہیں جو حسن بصری کے بڑے بھائی ہیں۔صحیح بخاری میں ان کی یہی ایک روایت منقول ہے۔یہ روایت ان روایتوں میں سے ہے جو محدثین کی اصطلاح میں از قتسم فرد ہیں۔اس روایت کے آخر میں ایک دوسرے راوی کا حوالہ بھی اسے صحیح ثابت کرنے کی غرض سے دیا گیا ہے جو کتاب اللباس، باب: ۹۷ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً こ كُلَّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يُنْفُخَ فِيْهَا الرُّوْحَ وَلَيْسَ بِنَافِخ روایت نمبر ۵۹۶۳ میں مذکور ہے۔اس روایت سے ظاہر ہے کہ غیر ذی روح اشیاء کی تصویریں بنانا جائز ہے، مگر عنوانِ باب میں الفاظ وَمَا يُكْرَهُ مِنْ ذَلِکَ سے اس کی کراہت محدود کر دی گئی ہے۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا عِندَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ روزِ قیامت مصوروں کو تمام لوگوں سے زیادہ سخت سزا دی جائے گی۔اس روایت پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ قرآن مجید کی نص صریح أَدْخِلُوا الَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ۔(المؤمن:۴۷) سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعونیوں کو سب سے بڑھ کر سزا ملے گی۔یہ اعتراض درست نہیں۔ہر بُرے فعل کی سزا اپنی نوعیت میں جدا گانہ ہے اور اس کی سزا کی شدت بھی جدا گانہ ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَمَا جَزَاءُ مَنْ يُفْعَلُ ذَلِكَ مِنْكُمْ إِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرَدُّونَ إِلَى أَشَدِ الْعَذَابِ (البقرۃ : ۸۲) جو خانہ جنگی کی طرح ڈالتا ہے اور ایک دوسرے کو فتنہ و فساد پر آمادہ کرتا ہے۔اس کی سزا دنیا کی زندگی میں رسوائی ہے اور روز قیامت وہ نہایت شدید سزا کی طرف کو ٹائے جائیں گے۔اسی طرح حدیث میں آتا ہے: اسدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِمَامُ ضَلَالَةٍ - پیشوائے ضلالت کو قیامت کے روز نہایت شدید سزا دی جائے گی۔اسی طرح آتا ہے کہ اَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا عَالِمٌ لَمُ يَنفَعُهُ اللهُ بِعِلْمِهِ۔(المعجم الصغير للطبراني، باب الطاء من اسمه طاهر، روایت نمبر ۵۰۷ جزء اول صفحه ۳۰۵) وه عالم جس کو اللہ نے اُس کے علم سے نفع نہیں دیا تمام لوگوں سے بڑھ کر سزا پائے گا۔علامہ عینی نے مذکورہ احادیث نبویہ کا حوالہ دے کر اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ مصورین سے وہ لوگ مراد ہیں جو پرستش کے لئے بت بناتے ہیں۔جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں کیا جا تا تھا اور جیسا کہ عیسائی حضرت مسیح اور حضرت مریم کے بت بناتے ہیں اور اُن کی پرستش کی جاتی ہے۔مشرک اقوام میں انہی بتوں کی وجہ سے بت پرستی مع اخلاق سوز رسم ورواج صد ہا سال سے قائم ہے۔یہاں تک کہ اس کی بیخ کنی ایک مصیبت بن چکی ہے۔مہلب وغیرہ کی رائے بھی یہی ہے کہ تصویر سازی کی ممانعت کی اصل وجہ یہی تھی۔اس بارہ میں فقہاء کے دو گروہ ہیں۔ایک وہ جنہوں نے اسے مطلق حرام قرار دیا ہے یہاں تک کہ گھروں میں تصویر رکھنا بھی ان کے نزدیک مکروہ ہے اور دوسرا گروہ اعتدال پسند ہے، جنہوں نے ایسی تصویر میں رکھنے کی اجازت دی ہے جو شرک اور بدی کے محرکات سے خالی ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحہ ۳۹ ۴۰ ) ( فتح الباری جز ۴۶ صفحه ۵۲۶،۵۲۵) (بخاری، کتاب اللباس، باب عذاب المصورين يوم القيامة، روایت نمبر ۵۹۵۰) (مسلم، کتاب اللباس والزينة، باب تحريم تصوير صورة الحيوان وتحريم اتخاذ ما فيه)