صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 191
صحيح البخاری جلد ۴ 191 ۳۴- كتاب البيوع بَاب ١٠٤: بَيْعُ التَّصَاوِيْرِ الَّتِي لَيْسَ فِيْهَا رُوْحٌ وَمَا يُكْرَهُ مِنْ ذَلِكَ ان چیزوں کی تصویریں بیچنا جن میں روح نہیں اور اس مصوری کے بارہ میں جو مکروہ ہے ٢٢٢٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ :۲۲۲۵ عبد اللہ بن عبد الوہاب نے ہم سے بیان کیا عَبْدِ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ که یزید بن زریع نے ہم کو بتایا کہ عوف نے ہمیں خبر أَخْبَرَنَا عَوْفٌ عَنْ سَعِيْدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ دی۔انہوں نے سعید بن ابی الحسن (بصری) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا۔اتنے میں ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا: ابو العباس ! میں ایک انسان ہوں، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَبَا عَبَّاسٍ إِنِّي إِنْسَانُ إِنَّمَا مَعِيْشَتِيْ مِنْ صَنْعَةِ يَدِيْ میری روزی صرف میرے ہاتھ کی کاریگری سے وَإِنِّي أَصْنَعُ هَذِهِ التَّصَاوِيْرَ فَقَالَ پیدا ہوتی ہے اور میں یہ تصویریں بناتا ہوں۔حضرت ابْنُ عَبَّاسِ لَا أُحَدِثُكَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ ابن عباس نے کہا: میں تم سے وہی بات بیان کروں مِنْ رَّسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی۔میں سَمِعْتُهُ يَقُوْلُ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فَإِنَّ الله نے آپ سے سنا، فرماتے تھے: جس نے کوئی تصویر مُعَذِّبُهُ حَتَّى يَنْفُخَ فِيْهَا الرُّوْحَ وَلَيْسَ بنائی تو اللہ تعالیٰ اُسے سزا دے گا کہ اس میں روح بھی بِنَافِخَ فِيْهَا أَبَدًا فَرَبَا الرَّجُلُ رَبْوَةً ڈالے اور وہ اس میں کبھی نہ ڈال سکے گا۔(یہ سن کر ) شَدِيْدَةً وَاصْفَرَّ وَجْهُهُ فَقَالَ وَيْحَكَ اُس شخص کا سانس پھول گیا، (دَم رُکنے لگا) اور اس إِنْ أَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تَصْنَعَ فَعَلَيْكَ بِهَذَا کا چہرہ زرد ہو گیا۔(حضرت ابن عباس نے ) کہا: افسوس تجھ پر ؛ اگر تو نہیں مانتا اور تم نے تصویر بنانی ہی الشَّجَرِ كُلِّ شَيْءٍ لَيْسَ فِيْهِ رُوْحٌ۔قَالَ ہے تو درخت کی تصویر بناؤ۔ہر اُس شئے کی تصویر بنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ سَمِعَ سَعِيْدُ بْنُ أَبِي عَرُوْبَةً جس میں روح نہیں۔ابوعبداللہ امام بخاری) نے مِنَ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ هَذَا الْوَاحِدَ۔کہا: سعید بن ابی عروبہ نے نضر بن انس سے یہی اطرافه: ٥٩٦٣، ٧٠٤٢۔ایک (حدیث) سنی ہے۔