صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 190 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 190

صحيح البخاری جلد ۴ 190 ۳۴- كتاب البيوع خرید و فروخت بھی ناجائز ہے۔اسی فتویٰ حرمت کے تعلق میں یہ باب قائم کیا گیا ہے۔عنوان باب میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی جس روایت کا حوالہ دیا گیا ہے وہ باب ۱۱۲، روایت نمبر ۲۲۳۶ میں دیکھئے۔قَالَ أَبُو عَبْدِ الله : مسئلہ معنونہ کے ضمن میں دور روایتیں نقل کر کے آخر میں امام بخاری نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔لفظ قتل اور لعنت ہم معنی ہیں۔لعنة کے معنے ہیں رحمت الہی سے دوری اور قتل کے معنی تباہی کے ہیں۔جیسے کہ فرمایا : قُتِلَ الْخَرَّاصُونَ ) الَّذِينَ هُمُ فِى غَمْرَةٍ سَاهُونَ ) (الذاریات: ۱۲۱۱) یعنی اٹکل پچو باتیں کرنے والے ہلاک ہو گئے جو گمراہی کی گہرائیوں میں پڑے ہوئے حق کو بھلا رہے ہیں۔اس آیت سے اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جو قوم دنیا میں کسی اعلیٰ منصب پر فائز ہونے والی ہو، اسے شایاں نہیں کہ ادنی پیشے اختیار کرے۔بنی اسرائیل نے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام سے خواہش کی کہ انہیں کسی شہر میں لے چلیں جہاں اناج ، دالیں، پیاز اور لہسن وغیرہ اشیاء مل سکیں؛ کیونکہ وہ بیابان کی زندگی سے تنگ آگئے ہیں تو اُن پر ناراضگی کا اظہار فرمایا اور کہا: اتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِى هُوَ اَدْنى بِالَّذِى هُوَ خَيْرٌ۔(البقرة: (۶۲) یعنی کیا تم اس چیز ( یعنی حکومت ) کی جگہ جو اعلیٰ ہے، وہ چیز لینا چاہتے ہو ، جو ادنی ہے۔بعض پیشے اعلیٰ منصب سے متعلقہ فرائض کی ادائیگی میں روک ہوتے ہیں۔اس لئے ان سے منع کیا گیا ہے۔اس نکتہ جلیلہ کی طرف امام موصوف نے توجہ دلائی ہے۔أَنَّ فُلَانًا بَاعَ خَمُرًا: روایت نمبر ۲۲۲۳ میں شراب بیچنے والے کا نام مذکور نہیں صحیح مسلم اور ابن ماجہ کی روایتوں میں ان کا نام سمرہ بن جندب وارد ہوا ہے جو جلیل القدر صحابی ہیں۔انہوں نے ذمیوں سے جزیہ بصورت انگوری شراب وصول کیا اور اُسے بیچ کر اُس کی قیمت خزانہ بیت المال میں داخل کی۔یہ بیچ وشراء کی وہ صورت نہیں جو مسلمان کے لئے بطور پیشہ ممنوع ہے۔امام ابن جوزی نے صراحت کی ہے کہ حضرت سمرہ بن جندب کے نزدیک یہ صورت جائز تھی مگر احتیاط کا تقاضا تھا کہ ذمیوں ہی سے کہا جاتا کہ وہ خود اسے فروخت کر کے جزیہ بصورت نقد ادا کریں۔اسی عدم احتیاط کی وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے برا منایا کیونکہ ایسی بیچ ایک صحابی کے شایان شان نہ تھی۔(فتح الباری جز ۴ صفحه ۵۲۳ ۵۲۴) مذکورہ بالا قاعدہ ہر جگہ درست نہیں یعنی جس شئے کا کھانا پینا مکروہ یا حرام ہو، اُس کی بیع بھی مکروہ یا حرام ہے۔گدھے کا گوشت کھانا ممنوع ہے مگر اس کی خرید و فروخت جائز ہے۔اسی طرح سانپ کھانا ممنوع ہے مگر بغرض علاج معالجہ اس کی خرید وفروخت منع نہیں۔وعلی ہذا القیاس ، شراب کی خرید و فروخت بغرض علاج جائز ہے۔روایت نمبر ۲۲۲۴ سے ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل نے صریح حکم کو حیلے بہانے سے ٹالا اور یہ ان کے لئے جائز نہ تھا۔(مسلم، كتاب المساقاة، باب تحريم بيع الخمر والميتة والخنزير والأصنام این ماجه كتاب الاشربة باب التجارة في الخمر)