صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 187
صحيح البخاری جلد ۴ IAZ ۳۴- كتاب البيوع یہ چاروں روایتیں اس خیال کی تائید میں پیش کی گئی ہیں کہ شرک یا کفر سے حق ملکیت باطل نہیں ہوتی بلکہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہ بھی ثابت ہے کہ ان کے نیک اعمال جو بحالت شرک بجالاتے تھے مقبول ہوئے اور وہ اسی لئے اسلام سے بہرہ اندوز ہوئے۔یہ روایت کتاب الزكاة زیر باب ۲۴ روایت نمبر ۱۴۳۶ میں بھی دیکھئے۔نیز اس تعلق میں کتاب الهبة، باب ۲۹،۲۸ بھی دیکھئے۔بَاب ۱۰۱ : جُلُوْدُ الْمَيْتَةِ قَبْلَ أَنْ تُدْبَغَ مردار جانوروں کی کھالیں قبل اس کے کہ ان کی دباغت کی جائے ۲۲۲۱: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبِ :۲۲۲۱ : زهير بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ حَدَّثَنَا أَبِي بن ابراہیم نے ہمیں بتایا، کہا کہ میرے باپ نے ہم عَنْ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ سے بیان کیا۔صالح ( بن کیسان ) سے مروی ہے۔عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ انہوں نے کہا: ابن شہاب نے مجھ سے بیان کیا کہ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ عبد الله بن عبد اللہ نے ان کو خبر دی، (کہا: ) حضرت أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عبداللہ بن عباس رضی اللہ نہانے ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مردہ بکری کے پاس سے گزرے مَرَّ بِشَاةٍ مَيِّتَةٍ فَقَالَ هَلَّا اسْتَمْتَعْتُمْ تو آپ نے فرمایا کہ تم نے اس کی کھال سے فائدہ بِإِهَابِهَا قَالُوْا إِنَّهَا مَيِّتَةٌ قَالَ إِنَّمَا کیوں نہیں اٹھایا ؟ انہوں نے کہا کہ وہ تو مردار ہے۔حَرُمَ أَكْلُهَا۔آپ نے فرمایا: صرف اس کا کھانا ہی حرام ہے۔تشریح: اطرافه: ١٤٩٢، ٥٥٣١ ٥٥٣٢ جُلُودُ الْمَيْتَةِ قَبْلَ أَنْ تُدْبَعَ : زیر باب روایت (نمبر۲۲۲۱) میں بظاہر چمڑوں کی بیع کا ذکر نہیں۔امام موصوف نے یہ استنباط قاعدہ کلیہ سے کیا ہے : كُلُّ مَا يُنتَفَعُ بِهِ يَصِحُ بَيْعُهُ۔ہر کارآمد شے کی بیچ درست ہے۔یہی مذہب زہری کا ہے، جسے امام موصوف نے اختیار کیا ہے۔(فتح الباری جزء ۴۰ صفحه ۵۲۲ ) (عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحه ۳۴) بَاب ۱۰۲ : قَتْلُ الْخِنْزِيرِ خنزیر کا قتل وَقَالَ جَابِرٌ حَرَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى الله اور حضرت جابڑ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خنزیر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْعَ الْخِنْزِيْرِ۔کی خرید و فروخت حرام قرار دی ہے۔