صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 186
صحيح البخاری جلد ۴ ۱۸۶ ۳۴- كتاب البيوع کرو تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض اور دے گا۔ حضرت صہیب بھاگ کر مکہ مکرمہ میں آئے اور عبداللہ بن جدعان کے حلیف بنے۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ابن جدعان نے ان کو رومیوں سے خریدا تھا۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحه ۳۳۲۹) ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحه ۵۲۱،۵۲۰) چوتھا حوالہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا دیا گیا ہے جو حبشی النسل اہے جو حبشی النسل تھے۔ یہ ابو جہل اور امیہ بن خلف کے مشترکہ غلام تھے۔ ابو جہل کے بعض یتیموں کی خدمت کیا کرتے تھے۔ جب ان پر اسلام قبول کرنے کی وجہ سے سختی کی گئی تو ایذاء دہی انتہاء تک پہنچ گئی۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ان کی مصیبت برداشت نہ کر سکے اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ذریعہ سے انہیں خرید کر آزاد کر دیا ۔ ( فتح الباری جز ۴۰ صفحه ۵۲۰) فَمَا الَّذِينَ فُضِّلُوا بِرَادِى رِزْقِهِمْ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءٌ : عنوانِ باب میں سورۃ انحل کی آیت ۷۲ کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ ابن منیر کی رائے میں یہ حوالہ اس غرض سے دیا ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو نعمت کسی کو عطا کی ہو اور اس کا اسے مالک قرار دیا ہو؟ وہ اس میں پورا تصرف کر سکتا ہے۔ اس حوالہ سے اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ کسی کے لئے جائز نہیں کہ مذہبی اختلاف کے بہانے سے کسی مالک کو خواہ کافر ہو یا مشرک، اس کے حقوق ملکیت سے محروم کر دے۔ ( فتح الباری جز ۲۰ صفحہ ۵۲۰) صبا الله عليه أَخْدَمَ وَلِيدَةً : زیر باب چار روایتیں منقول ہیں۔ پہلی روایت ( نمبر ۷ ۲۲۱) میں مشرک و کافر کی طرف سے حضرت ہاجرہ کا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بطور ہدیہ ملنا مذکور ہے۔ ان واقعات سے صحت ہبہ و ہدیہ کے بارے میں استدلال کیا گیا ہے لیے الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ۔۔۔۔ وَاحْتَجِبِى مِنْهُ يَا سَوْدَةُ : دوسری روایت ( نمبر ۲۲۱۸) میں آنحضرت ﷺ کے ایک فیصلے کا ذکر ہے جس کی رو سے وہ لڑکا عبد بن زمعہ کو ملا کیونکہ ان کے والد زمعہ کے گھر اُن کی لونڈی سے پیدا ہوا ہے سُرِقْتُ وَأَنَا صَبِيٌّ : تیسری روایت ( نمبر ۲۲۱۹) میں حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کی گرفتاری اور بیع اور آزادی کا واقعہ اختصار سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ بھی صحت ملکیت پر دلالت کرتا ہے۔ أَسْلَمْتَ عَلَى مَا سَلَفَ لَكَ مِنْ خَيْرٍ : چوتھی روایت میں حضرت حکیم بن حزام کا واقعہ مذکور ہے۔ اس سے بھی بحالت شرک صحت ملکیت (یعنی آزاد کرنے ) کا استدلال ہوتا ہے۔ لے آنحضرت ﷺ نے گذشتہ امتوں کے بعض واقعات لے کر ان سے نہایت مفید و لطیف استدلال کیے ہیں (جیسے غار والوں کا واقعہ وغیرہ) ان واقعات کی اصلیت و تفاصیل سے آپ کا متفق ہونا کا متفق ہونا محض کسی واقعہ کے بیان سے مستلزم نہیں ہے اور اگر غور کیا جائے تو اس واقعہ کی اندرونی شہادتیں اس کی صحت پر سوالیہ نشان بن کر غلط تصورات کی بیخ کنی کرتی ہیں۔ اسی طرح حضرت ابراہیم کا حضرت سارہ کو بہن کہنا بادشاہ سے کیسے بچا سکتا تھا اور عملاً اس تو ریہ کا کیا فائدہ ہوا۔ نیز اس واقعہ کے مطابق حضرت سارہ کا ایمان باللہ اور یقین و معرفت خدا کے نبی حضرت ابراہیم سے بڑھ کر دکھایا گیا ہے اور عملاً ایک نبی تو نشان نہ دکھا سکا لیکن اُس کی بیوی نے نشان دکھایا اور اس پر مستزاد یہ کہ جونشان حضرت سارہ نے دکھایا ، اس کا انعام ان کو نہیں بلکہ اُن کے خاوند کو ایک لونڈی کے طور پر ملا اور انہیں سوتن کا تحفہ ملا۔ پس واقعہ کے مندرجات بذات خود اس کی صحت لفظی کی قلعی کھول رہے ہیں۔ (از مرتب ) اس طرح یہ دائی اصول قرار پایا کہ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ۔ تاہم اس کی مشابہت سے ثابت ہوا کہ وہ در حقیقت عتبہ کا بیٹا ہے۔ اس لیے آپ نے حضرت سودہ بنت زمعہ کو اس سے پردہ کا حکم دیا۔ ( از مرتب )