صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 184
صحيح البخاری جلد ۴ الله ۳۴- كتاب البيوع رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتِ اخْتَصَمَ ہے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ کی۔ وہ کہتی تھیں کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ فِي غُلَامٍ فَقَالَ سَعْدٌ هَذَا يَا رَسُولَ اللهِ ایک لڑکے کے بارے میں جھگڑے۔ سعد نے کہا: ابْنُ أَخِي عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَاصِ عَهِدَ يا رسول اللہ! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بیٹا إِلَيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ انْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ۔ وَقَالَ ہے۔ اس نے مجھے وصیت کی تھی کہ وہ اس کا بیٹا ہے۔ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ هَذَا أَخِي يَا رَسُولَ اللهِ آپ اس کی شکل دیکھیں اور عبد بن زمعہ نے رسول اللہ ! یہ میرا بھائی ہے، میرے باپ کے بچھونے نے کہا: یا وُلِدَ عَلَى فِرَاشٍ أَبِي مِنْ وَلِيْدَتِهِ فَنَظَرَ پر ان کی لونڈی سے پیدا ہوا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی شکل دیکھی تو عقبہ کھلی شَبَهِهِ فَرَأَى شَبَهَا بَيِّنَا بِعُتْبَةَ فَقَالَ هُوَ مشابہت پائی اور فرمایا: عبد! وہ تمہارا ہے۔ بچہ اُس کا لَكَ يَا عَبْدُ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَ لِلْعَاهِرِ ہوتا ہے جس کے بچھونے پر پیدا ہو اور بدکار کے لئے الْحَجَرُ وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتَ پتھر ہیں ۔ اے سودہ بنت زمعہ ! اس سے پردہ کیا کرو۔ زَمْعَةَ فَلَمْ تَرَهُ سَوْدَةُ قَطُّ ۔ چنانچہ حضرت سودہ نے پھر اُسے کبھی نہیں دیکھا۔ اطرافه: ٢٠٥٣ ، ٢٤٢١ ، ٢٥٣٣ ، ٢٧٤٥ ، ٤٣٠٣ ، 6749، 6765، ٦٨١٧، ٧١٨٢۔ ۲۲۱۹ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ۲۲۱۹: محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا غندر نے ہمیں حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدٍ عَنْ بتایا کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے سعد ( بن ابراہیم ) سے، سعد نے اپنے باپ سے روایت کی کہ أَبِيْهِ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفِ حضرت عبد الرحمن بن عوف نے صہ رضي عنه ۔ نے صہیب سے کہا: رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِصُهَيْبِ اتَّقِ اللَّهَ اللہ کی ناراضگی سے بچو اور اپنے ماں باپ کے سوا کسی وَلَا تَدَّعِ إِلَى غَيْرِ أَبِيْكَ فَقَالَ صُهَيْبٌ اور کی طرف منسوب نہ ہو۔ حضرت صہیب نے کہا: مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا وَأَنِّي مُجھے ایسی بات کہنے میں کوئی خوشی نہیں ، خواہ مجھے کتنا ہی مال ملے۔ بات دراصل یہ ہے کہ مجھے بچپن میں قُلْتُ ذَلِكَ وَلَكِنِّي سُرِقْتُ وَأَنَا صَبِيٌّ (رومی لوگ ) چرا لے گئے تھے۔ ۲۲۲۰ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۲۲۲۰ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ زُہری سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ انہوں نے