صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 182
صحيح البخاری جلد ۴ IAM ۳۴- كتاب البيوع ج عَلَى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ فَمَا نے فرمایا ہے : اللہ نے رزق میں تم میں سے بعض کو بعض الَّذِيْنَ فَضِلُوا بِرَآدِی رِزْقِهِمْ پر برتری عطا کی ہے۔اور جن لوگوں کو بڑھ کر دیا گیا ہے، وہ اپنا رزق کسی صورت میں بھی ان کے حوالے کرنے عَلى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيْهِ سَوَاءُ أَفَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ والے نہیں ہیں، جن پر ان کے داہنے ہاتھ قابض ہیں۔جس کا نتیجہ یہ ہو کہ وہ اس میں برابر کے حصہ دار ہو (النحل: ۷۲) جائیں تو کیا پھر وہ اللہ کی نعمت کا ہی انکار کرتے ہیں۔۲۲۱۷: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۲۲۱۷: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزَّنَادِ عَنِ الْأَعْرَج ہمیں خبر دی۔(انہوں نے کہا: ) ابوالزناد نے ہمیں بتایا۔اللهُ عَنْهُ قَالَ انہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابو ہریرہ نہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَاجَرَ نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت سارہ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِسَارَةَ فَدَخَلَ کو ساتھ لے کر ہجرت کی تو وہ ان کے ساتھ ایک بستی بهَا قَرْيَةً فِيْهَا مَلِكٌ مِنَ الْمُلُوكِ أَوْ میں داخل ہوئے۔وہاں بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ جَبَّارٌ مِنَ الْجَبَابِرَةِ فَقِيْلَ دَخَلَ یا راوی نے یہ کہا کہ ) جابروں میں سے ایک جابر رہتا تھا۔اسے بتایا گیا کہ حضرت ابراہیم ایک عورت لے کر إِبْرَاهِيمُ بِامْرَأَةٍ هِيَ مِنْ أَحْسَنِ النِّسَاءِ آئے ہیں جو نہایت حسین ہے تو بادشاہ نے حضرت ابراہیم فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ مَنْ هَذِهِ سے دریافت کرایا کہ یہ عورت جو تمہارے ساتھ ہے کون الَّتِي مَعَكَ قَالَ أُخْتِي ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهَا ہے؟ تو انہوں نے کہا: میری بہن۔پھر حضرت ابراہیم فَقَالَ لَا تُكَذِّبِي حَدِيْنِي فَإِنِّي أَخْبَرْتُهُمْ حضرت سارۀ کے پاس کوٹ آئے اور کہا: میری بات أَنَّكِ أُخْتِي وَاللَّهِ إِنْ عَلَى الْأَرْضِ مِنْ كونه جھٹلا نا کیونکہ میں نے ان کو بتایا ہے کہ آپ میری مُّؤْمِنٍ غَيْرِي وَغَيْرُكِ فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيْهِ بہن ہیں۔بخدا زمین پر میرے اور آپ کے سوا اور کوئی مومن نہیں اور انہوں نے حضرت سارہ کو اس کے فَقَامَ إِلَيْهَا فَقَامَتْ تَوَضَّأُ وَتُصَلِّي پاس بھیج دیا۔وہ بادشاہ حضرت سارہ کے پاس آیا اور فَقَالَتِ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ آمَنْتُ بِكَ وہ اُٹھیں اور وضو کر کے نماز پڑھنے لگیں اور دُعا کی کہ وَبِرَسُولِكَ وَأَحْصَنْتُ فَرْجِيْ إِلَّا اے اللہ! اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان لائی