صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 181 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 181

صحيح البخاري - جلد ۴ IMI ۳۴- كتاب البيوع شریح : الشّرَاءُ وَالْبَيْعُ مَعَ الْمُشْرِكِيْنِ وَاَهْلِ الْحَرْبِ : باب ۳۷ کے تحت ایام فتنہ وفساد میں ہتھیار کی خریدوفروخت کا مسئلہ گزر چکا ہے۔غیر مسلموں سے تمدکی تعلقات قائم رکھنے کے بارے میں قرآن مجید فرماتا ہے: لَا يَنْهكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِى الذِيْنِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمُ * إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ ، إِنَّمَا يَنْهكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِيْنَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَاَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَظَاهِرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوْهُمْ ۚ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ۔(الممتحنه: ۱۰۹) اللہ تم کو ان لوگوں سے جو تم سے دینی اختلاف سے نہیں لڑے اور جنہوں نے تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا، نیکی اور عدل کا سلوک کرنے سے نہیں روکتا۔اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔اور تم کو صرف ان لوگوں سے دوستانہ تعلقات رکھنے سے روکتا ہے، جنہوں نے تم سے دینی اختلاف کی وجہ سے جنگ کی اور تم کو گھروں سے نکالا یا تمہارے نکالنے پر تمہارے دشمنوں کی مدد کی اور جو لوگ بھی ایسے لوگوں سے دوستی رکھیں گے، وہ ظالم ہیں۔یہ باب عرف عام کے تسلسل میں ہے جو بات سے شروع ہے۔بعض شارحین نے تمدنی تعلقات کے تعلق میں مشرکین سے ہدیہ یا ہبہ قبول کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں سوال اُٹھایا ہے اور یہ کہ آیا جس کی کمائی ناجائز یا مشتبہ ہو، اس کا ہدیہ وغیرہ قبول کرنا یا اس سے لین دین کرنا جائز ہے یا نہیں؟ (عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحه ۲۸،۲۷) یہ مسائل اس وقت زیر بحث نہیں بلکہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد سے ظاہر ہے کہ آپ نے بکریوں والے سے بطور ملاطفت و موانست بات کی اور اس سے خریدا۔اس تعلق میں مزید دیکھئے بخاری، کتاب الهبة، روایت نمبر ۲۶۱۸۔جہاں صراحت ہے کہ آنحضرت ﷺ کسی کارروائی کی غرض سے بحالت سفر تھے، جب مذکورہ بالا واقعہ پیش آیا۔اس لئے عنوانِ باب میں مشرکین اور حربی کفار کا ذکر کیا گیا ہے۔بخاری کے بعض نسخوں میں بغیر واو عاطفہ کے عنوان یوں ہے : مَعَ الْمُشْرِكِيْنَ أَهْلِ الْحَرْبِ۔(عمدة القارى جز ء ۱۲ صفحہ ۲۶) اس عنوان سے بھی یہی بات نمایاں کی گئی ہے کہ آپ اس وقت دارالحرب میں تھے۔باوجود اس کے جن لوگوں کا تعلق جنگ سے نہ تھا، آپ نے ان سے معاملہ کیا۔علامہ بدرالدین عینی نے اپنی شرح میں تفصیل سے مختلف فتووں کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے عیسائیوں اور مشرک بادشاہوں وغیرہ سے ہدیے قبول فرمائے۔(عمدۃ القاری جز ۲۰ صفحه ۲۷) باب ۱۰۰ : شِرَاءُ الْمَمْلُوكِ مِنَ الْحَرْبِي وَهَبْتُهُ وَعِنقه حربی (کافر) سے غلام لونڈی خریدنا اور اسے ہبہ کرنا اور آزاد کرنا وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان (فارسی ) سے فرمایا: لِسَلْمَانَ كَاتِبٌ وَكَانَ حُرًّا فَظَلَمُوْهُ اپنی آزادی کی تحریر لکھوا لیں، اگرچہ وہ آزاد تھے مگر لوگوں وَبَاعُوْهُ وَسُبِيَ عَمَّارٌ وَصُهَيْبٌ وَبِلَالٌ نے اُن پر ظلم کیا اور اُن کو بیچ دیا۔اور حضرت عمار، حضرت وَقَالَ اللهُ تَعَالَى: وَاللهُ فَضَّلَ بَعْضَكُم صہیب اور حضرت بلال قید کر لئے گئے۔اور اللہ تعالیٰ