صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 181
صحيح البخاري - جلد ۴ ۱۸۱ ۳۴- كتاب البيوع ۳۷۷ و فساد تشريح : الشَّرَاءُ وَالْبَيْعَ مَعَ الْمُشْرِكِينِ وَأَهْلِ الْحَرْبِ: باب کے تحت ایام فتنہ وفا میں ہتھیار کی خرید وفروخت کا مسئلہ گزر چکا ہے۔ غیر مسلموں سے تمدنی تعلقات قائم رکھنے کے بارے میں قرآن مجید فرماتا ہے : لَا يَنْهَكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوُهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ ) إِنَّمَا يَنْهكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ 0 (الممتحنه: ۹، ۱۰) اللہ تم کو ان لوگوں سے جو تم سے دینی اختلاف سے نہیں لڑے اور جنہوں نے تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا، نیکی اور عدل کا سلوک کرنے سے نہیں روکتا۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اور تم کو صرف ان لوگوں ں ۔ سے دوستانہ تعلقات رکھنے سے روکتا اہے، ہے، جنہوں نے تم سے دینی اختلاف کی وجہ سے جنگ کی اور تم کو گھروں سے نکالا یا تمہارے نکالنے پر تمہارے دشمنوں کی مدد کی اور جو لوگ بھی ایسے لوگوں سے دوستی رکھیں گے، وہ ظالم ہیں۔ صلى یہ باب عرف با عام کے تسلسل میں ہے جو با ۹ سے شروع ہے۔ بو ۹۵ سے شروع ہے۔ بعض شارحین نے تمدنی تعلقات کے تعلق میں مشرکین سے ہدیہ یا ہبہ قبول کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں سوال اُٹھایا ہے اور یہ کہ آیا جس کی کمائی ناجائز یا مشتبہ ہو، اس کا ہدیہ وغیرہ قبول کرنا یا اس سے لین دین کرنا جائز ہے یا نہیں؟ (عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحہ ۲۷، ۲۸) یہ مسائل اس وقت زیر بحث نہیں بلکہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد سے ظاہر ہے کہ آپ نے بکریوں والے سے بطور ملاطفت و موانست بات کی اور اس سے خریدا۔ اس تعلق میں مزید دیکھئے بخاری ، کتاب الهبة، روایت روایت نمبر نمبر ۲۶۱۸۔ ۲۶۱۸۔ جہا جہاں صراحت ہے کہ آنحضرت سرت ما یا کسی کارروائی کی غرض سے بحالت سفر تھے، جب مذکورہ بالا واقعہ پیش آیا ۔ اس لئے عنوانِ باب میں مشرکین اور حربی کفار کا ذکر کیا گیا ہے۔ بخاری کے بعض نسخوں میں بغیر واو عاطفہ کے عنوان یوں ہے : مَعَ الْمُشْرِكِينَ أَهْلِ الْحَرْبِ - ( عمدة القارى جزء ۱۲ صفحہ ۲۶) اس عنوان سے بھی یہی بات نمایاں کی گئی ہے کہ آپ اس وقت دارالحرب میں تھے۔ باوجود اس کے جن لوگوں کا تعلق جنگ سے نہ تھا، آپ نے ان سے معاملہ کیا۔ علامہ بدرالدین عینی نے اپنی شرح میں تفصیل سے مختلف فتووں کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے عیسائیوں اور مشرک بادشاہوں وغیرہ سے ہدیے قبول فرمائے۔ عمدة القاری جزء ۱۲۰ صفحه ۲۷) صلى الله بَاب ۱۰۰ : شِرَاءُ الْمَمْلُوكِ مِنَ الْحَرْبِيِّ وَهِبَتُهُ وَعِتْقُهُ حربی (کافر) سے غلام ، لونڈی خریدنا اور اسے ہبہ کرنا اور آزاد کرنا وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ في صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان (فارسی) سے فرمایا: لِسَلْمَانَ كَاتِبُ وَكَانَ حُرًّا فَظَلَمُوْهُ اپنی آزادی کی تحریر لکھوا لیں، اگرچہ وہ آزاد تھے مگر لوگوں وَبَاعُوْهُ وَسُبِيَ عَمَّارٌ وَصُهَيْبٌ وَبِلَالٌ نے اُن پر ظلم کیا اور اُن کو بیچ دیا۔ اور حضرت عمار ، حضرت وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ صہیب اور حضرت بلال قید کر لئے گئے۔ اور اللہ تعالیٰ